خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 668 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 668

خطبات طاہر جلد ۶ 668 خطبہ جمعہ ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء ڈالک ہمارے مبلغین نے یہ غلطی کی کہ پہلے سیاہ فام لوگوں میں تبلیغ شروع کر دی اور اس کے نتیجے میں وہ جوق در جوق شامل ہونے شروع ہوئے چنانچہ خود اپنے ہاتھوں سے سفید فام قوموں کے لئے رستے بند کر دیے۔اس کے اندر وہ احساس کمتری پایا جاتا تھا جو نوح کی بظاہر غالب قوم کے اندر پایا جاتا تھا۔اس کے اندر وہ جاہلانہ بات تھی کہ جو نسبتا کم عزت رکھنے والی قومیں ہیں وہ خدا کی ہو بھی جائیں تب بھی وہ ذلیل ہی رہیں گے گویا کہ اور سفید فام آئیں گے تو دین کو عزت ملے گی سفید فام نہیں آئیں گے تو دین ذلیل رہے گا۔وہ بات کرنے والا ایک ذلیل سوچ رکھنے والا تھا۔میرا دل متلانے لگا کہ کس قسم کی بات کر رہا ہے۔قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ میرے باشعور بندے ہزار ہا سال پہلے بھی ایسے روشن دماغ رکھتے تھے کہ وہ جانتے تھے کہ بچی فضیلتیں کن باتوں میں ہیں، وہ جانتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ غریبوں کو توفیق دے اور کم نظروں کو، چھوٹا دکھائی دینے والوں کو توفیق دے تو وہ خدا سے ایسی عزت پاتے ہیں کہ تمام دنیا پر وہ فضیلت پا جاتے ہیں۔ان کے آنے سے دین کو عزت ملتی ہے ان کے جانے سے دین کی ذلت ہے اور جو دین کو چھوٹا دیکھتے ہیں ان کے نہ آنے میں دین کی عزت ہے اور پھر یہ کہ ان پر دروازے کیسے بند کئے جاسکتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کسی قوم کو ایک فضلیت عطا کرے اور وہ نیکی کی طرف آگے بڑھے اور قربانیوں کی طرف آگے بڑھے تو اس بنا پر ان پر دروازے بند کئے جائیں کہ تمہارا رنگ مختلف ہے، تمہاری قومی حیثیت مختلف ہے، تم غریب لوگ ہو۔یہ دروازے ظاہراً لبعض دفعہ نہیں بند کئے جاتے بعض دفعہ دلوں پر تالے پڑتے ہیں اور رجحان بند ہو جاتے ہیں۔ان کی طرف دیکھنے والی نگاہیں مجرم ہو جاتی ہیں۔ان کو محبت سے سینے سے لگانے کی بجائے وہ ایک ہلکی سے دوری محسوس کرتے ہیں، ایک پردہ سا بیچ میں حائل کر دیتے ہیں۔پس ظاہری طور پر کبھی ایسا واقعہ نہیں سنا ہوگا آپ نے کہ ان لوگوں میں سے احمدی ہوئے ہوں اور ان پر دروازے مسجد کے بند کر دئیے جائیں کہ تم نے نہیں آنا۔لیکن ایسے واقعات آپ نے ضرور دیکھے ہوں گے اور اگر آپ اپنے دل کو ٹول کر دیکھیں تو ہو سکتا ہے آپ کو اپنے اندر بھی ایسی بد بدنصیبی کبھی دکھائی دے وے کہ آپ نے اپنی روح کے دروازے ان پر کچھ بند کئے یا بھیڑ دیئے کم از کم۔اگر مقفل نہیں کئے تو نہیں چاہا کہ یہ کھلے ہوں اور یہ شوق سے آپ کے اندر داخل ہوں۔اس