خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 61

خطبات طاہر جلد ۶ 61 خطبہ جمعہ ۲۳ جنوری ۱۹۸۷ء بعض ملکوں میں آپ کو فیصد وصولی بہت دکھائی دے گی۔لیکن جو حالات کو جانتے ہیں جب وہ تفصیلی نظر سے مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وعدہ معیار سے چھوٹا تھا۔اس لئے وصولی زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔اگر وعدہ معیار کے مطابق ہو پوری طاقت کے مطابق پھر وصولی زیادہ ہوتو وہ ہے اصل شان ہے۔تو انگلستان کا وعدہ ہے مثلاً دس لاکھ وہ واقعہ چھتیس لاکھ میں سے دس لاکھ ایک بڑا وعدہ ہے خدا کے فضل کے ساتھ۔وہاں وصولی جو ہے وہ واقعی ایک معنی رکھتی ہے۔سویڈن بہت سے پہلوؤں سے ڈنمارک سے گرا ہوا ہے اور اس مالی قربانی میں دونوں پہلوؤں سے گرا ہوا ہے یعنی وعدے میں بھی کمزور اور وصولی میں اور بھی زیادہ کمزور۔صرف 41 فیصد یعنی ڈنمارک سے آدھا فیصد ہے ان کی قربانی اور دعا کریں اللہ ان ممالک کو توفیق بخشے کہ وہ اپنا حال درست کریں۔جس طرح ساری دنیا میں بیداری پیدا ہو رہی ہے، نیا عزم آ رہا ہے اور متحد ہو رہی ہے جماعت خدا تعالیٰ ان کو بھی توفیق بخشے۔یہ نہ سمجھا جائے کہ گویا سکینڈے نیوین Scandinavian ممالک کی یہی حالت ہے۔ناروے اللہ کے فضل سے بالکل مختلف ہے۔بیداری کے لحاظ سے بھی مختلف، دعوت الی اللہ کے لحاظ سے جو خصوصیت کے ساتھ ، بہت ہی توجہ ہے اللہ کے فضل سے اور اس گزشتہ سال عربوں میں کامیاب تبلیغ کے لحاظ سے ناروے کا نمبر بڑا ہی نمایاں تھا۔اور اس سال کا آغاز بھی ان کا اسی طرح ہوا ہے خدا کے فضل سے۔تین بیعتیں مجھے موصول ہوئیں، تین میں سے دوعر بوں کی تھیں، چند دن پہلے تو چونکہ وہاں عربوں کے ساتھ خصوصیت سے رابطہ کیا جاتا ہے اور بڑی مؤثر تبلیغ ہو رہی ہے اور بعض نوجوان خدا کے فضل سے بہت ہی پیش پیش ہیں۔اس لئے مجھے خیال آیا کہ مبارک باد کے لئے فون کروں ان کو تا کہ حوصلہ افزائی ہو۔تعداد تو دو ہی ہے بظاہر لیکن اللہ کے فضل جب نازل ہوتے ہیں تو بعض دفعہ ایک ایک کے اوپر دل شکر سے بھرتا ہے۔خدا کا ایسا عجیب کام ہے بعض دفعہ کہ اگر خالص اس کی خاطر ایک کام کیا جائے تو وہ اس کی جزا د ینے میں دیر نہیں فرماتا۔میں نے فون کیا۔میں نے کہا مبارک ہو آپ کی تین بیعتیں موصول ہوئیں ان میں سے دوعربوں کی ہیں۔انہوں نے کہا دوا بھی ہوئیں ہیں آج ، وہ اس کے علاوہ ہیں۔تو جو شکر کرتا ہے لَا زِيدَنَّكُمُ (ابراہیم: ۸) کا وعدہ فورا پورا ہوتے بھی دیکھتا ہے۔لے نوٹ:۔یہ دو عرب نہیں بلکہ سیرالیونیز تھے۔حضور نے خطبہ جمعہ ۳۰ جنوری ۱۹۸۷ء میں اس کی تصحیح فرمائی تھی۔