خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 60
خطبات طاہر جلد ۶ 60 60 خطبہ جمعہ ۲۳ / جنوری ۱۹۸۷ء عظیم الشان کام ہے جس میں جماعت کے ہر فرد کو حصہ لینا ہوگا اور اس کے بغیر یہ عظیم الشان کام ہوہی نہیں سکتا۔جوصد سالہ جو بلی کی تیاری ہے وہ جشن کی تیاری نہیں ہے حقیقت میں بلکہ وہ آئندہ صدی میں اسلام کے غلبہ نو کی نئی مہم جاری کرنے کی تیاری ہے۔اس لئے تشکر کا ہر ذریعہ اپنی ذات میں اسلام کی فتح کے دن کو قریب لانے کا ایک ذریعہ ہے۔اس کی تفاصیل تو ایک خطبہ کا تو سوال نہیں کئی خطبوں میں پھیلانی پڑے گی لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ خلاصہ بعض اہم امور کی طرف آپ کو انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں متوجہ کروں کہ مالی قربانی کے ساتھ نفوس کی قربانی آپ نے کس طرح پیش کرنی ہے اور کیا کیا آپ سے تقاضے ہیں۔کچھ ڈھانچہ آپ کو بتایا جائے کہ کیا ہونے والا ہے۔آپ کے دل میں بھی تا کہ ایک گرم خون دوڑے اور آپ کو Excitement ہو، بہیجان آجائے آپ کے دل میں کہ اوہو! اتنا بڑا عظیم الشان سال اتنا قریب پہنچ گیا ہے ہمیں تو تیز دوڑ نا چاہئے۔اس لئے اس خیال سے انشاء اللہ کچھاپنی فکروں میں آپ کو بھی شامل کیا جائے گا۔مگر آئندہ خطبہ میں اب وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔جہاں تک انگلستان کی مجموعی قربانی کا تعلق ہے میں نے بیان کیا ہے۔چوہدری صاحب رض کی قربانی شامل کر لی جائے تو پچاس فیصدی سے بہت بڑھ جاتا ہے تناسب ادا ئیگی کا۔مغربی جرمنی خدا کے فضل سے ان ملکوں میں سے ہے جو مالی قربانی میں پیش پیش ہے ہر پہلو سے اور باوجود اس کے کہ کوئی خاص وہاں تحریک نہیں چلائی گئی وہ نو جوان ہمارے جو ویسے تو اکثر اُن میں سے مزدور پیشہ ہیں، بہت معمولی معمولی کام ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے پاس کچھ بھی کام نہیں لیکن جذ بہ بہت ہے۔اب تک وہ 68۔82 فیصد ادائیگی کر چکے ہیں اور یہاں بھی آپ کو وہی شکل نظر آئے گی کہ بہت سارے ایسے ہوں گے جو نئے آنے والے ہیں جن کے وعدے ابھی باقی ہیں۔اگر اس پہلو سے دیکھا جائے تو ابھی بہت بڑی رقم جرمنی سے قابل وصولی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے ان نوجوانوں کی اس روح کو زندہ رکھے۔ڈنمارک چھوٹا ملک ہے اور قربانی کے لحاظ سے درمیانہ۔کچھ نو جوان آپس میں کچھ الجھے ہوئے ، کچھ کئی قسم کی کمزوریاں بھی ہیں لیکن اللہ فضل فرمائے بالعموم معیار اتنا برا نہیں ہے۔لیکن پچاسی فیصد جو وصولی ظاہر ہو رہی ہے یہ وعدے کے لحاظ سے تو بہت اچھی بات ہے لیکن جو گنجائش ہے اس کے لحاظ سے یہ مناسب نہیں ہے۔