خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 599
خطبات طاہر جلد ۶ 599 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۷ء کے بغیر حل نہیں ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کا غیر معمولی فضل آپ مانگیں گے تو وہ نازل ہوگا۔کچھ فضل بن مانگے نازل ہوا کرتے ہیں رحمان کے لیکن کچھ ایسا ہیں جن کا رحیمیت سے تعلق ہے اور ابتلا کے دور کا رحیمیت سے گہرا تعلق ہے اس کی تفصیل میں اس وقت جانے کا وقت نہیں ہے کیونکہ ایک تفصیلی مضمون ہے لیکن اتنا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ابتلا کے ادوار کا رحیمیت سے گہرا تعلق ہوا کرتا ہے اور رحیمیت کے لئے آپ کو مانگنا پڑے گا بن مانگے نہیں ملے گا۔اپنے نیک اعمال کے ذریعے مانگنا ہوگا اپنی زبان کے ذریعے ، اپنے دل کے ذریعے جو کچھ بھی آپ کے بس میں ہے جس رنگ کی عاجزی کی دعا آپ کر سکتے ہیں ویسی دعا کریں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ان خطرناک راستوں سے بڑی کامیابی کے ساتھ اور اطمینان کے ساتھ آگے گزارتا ہے۔دوسری بات جو عمومی طور پر جماعت کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں جس قسم کی مخالفانہ کوشش ہو اس کے جواب میں ساری جماعت دنیا میں ہر جگہ اپنے معیار کو بڑھا دے اور پہلے سے زیادہ نیکیاں اختیار کرے۔اگر مساجد توڑی جا رہی ہیں، مساجد برباد کی جا رہی ہیں تو مساجد بڑھنی چاہئیں، اگر غرباء کے گھر برباد کئے جارہے ہیں تو غرباء کے گھروں کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔یعنی جس رنگ میں بھی دشمن ظلم کرتا ہے اس کی جوابی کاروائی براہ راست ساری دنیا میں جماعت کر سکتی ہے اور وہ نیکیوں کے ذریعے ہے اسی قسم کی نیکیوں کے ذریعے جن کا ابتلا کے ساتھ ایک قدرتی تعلق ہے۔چنانچہ اس ابتلا میں بنگلہ دیش میں خصوصیت کے ساتھ ایک انہوں نے مسجدوں پر حملہ کیا ہے اور ایک غرباء کے گھروں پر اور غرباء کی تجارتوں پر۔اس لئے ہمیں اس کے رد عمل کے طور پر دو طرح سے ساری دنیا میں اپنی بعض نیکیوں کو خصوصیت سے آگے بڑھانا چاہئے۔مسجد سے تعلق کو بڑھانا چاہئے۔جہاں جہاں مساجد ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی نصیحت کی تھی ان کی زینت کی طرف توجہ کرنی چاہئے ان کی صفائی کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔جہاں جہاں مساجد نہیں ہیں اور جماعتیں ہیں خواہ چھوٹی ہی ہوں وہاں مساجد بنی چاہئیں اور اللہ کے فضل کے ساتھ جو اطلاعیں مل رہی ہیں گزشتہ چند مہینے میں خدا کے فضل سے جماعت کی مسجدوں کی طرف بڑی غیر معمولی توجہ ہوئی ہے، بن رہی ہیں لیکن چونکہ مسجدوں پر خصوصیت سے حملہ ہے اس لئے اور زیادہ تیزی کے ساتھ ہمیں بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اگر بڑی مسجد نہیں بنا سکتے تو جھونپڑی والی مسجد بنالیں لیکن مسجدوں کی تعداد میں غیر معمولی