خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 508

خطبات طاہر جلد ۶ 508 خطبہ جمعہ ۳۱ / جولائی ۱۹۸۷ء صرف تیرہ سال ہے۔جس بچے مبشر کا ذکر ہے اس کا اپنا خط بھی ملا ہے وہ کس تجربے میں سے گزرا ہے۔وہ لکھتا ہے:۔پیارے آقا جماعت احمد یہ خوشاب نے جب پانچویں مرتبہ کلمہ طیبہ بیت الذکر خوشاب کی پیشانی پر تحریر کیا تو اس رات بیت الذکر کی حفاظت کے لئے خدام کے ہمراہ میں نے بھی بیت الذکر میں قیام کیا (یعنی یہ طفل ہے، پندرہ سال سے کم عمر کے بچے طفل کہلاتے ہیں، خدام میں وہ شامل نہیں ہوتے ، اس لئے اس پر فرض تو نہیں تھا لیکن یہ طوعی طور پر نفلی طور پر اس حفاظت کے گروہ میں شامل ہو گیا )۔بیت الذکر کو اندر سے تالا لگا کر ہم سب آرام سے سو گئے۔رات تقریبا دس گیارہ بجے سٹی مجسٹریٹ ایک بھاری پولیس کی تعداد کے ساتھ بیت الذکر پہنچے۔ایک پولیس مین نے بیرونی طرف سیڑھی لگائی اور یوں دیوار پھلانگ کر قانونی اور اخلاقی جرم کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔عاجز جہاں موجود افراد میں سے سب سے چھوٹا بچہ تھا۔عمر تقریباً چودہ سال ہے۔سب سے پہلے اس عاجز کی مشکیں پیچھے کی طرف اتنی سختی سے باندھیں جس طرح میں نے کوئی بہت بڑا قصور کیا ہو۔اللہ جانتا ہے کہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا۔پھر زیادتی پر زیادتی یہ کہ انسپکٹر نے دوز در دار تھپڑ خاکسار کو رسید کئے، پھر باہر لے جا کر ایک پولیس مین نے دو تھپڑ دے مارے سٹی مجسٹریٹ نے پولیس مین کو کہا کہ دو تھپڑ اور لگاؤ۔اس پر اس سپاہی نے ایک اور تھپڑ رسید کیا۔اس کے بعد میرے دیگر ساتھیوں کا ایک ایک ہاتھ باندھا جبکہ میرے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف کر کے بڑی سختی سے باندھے ہوئے تھے۔پھر پولیس مین کالے رنگ کے موبل آئل سے کلمہ طیبہ کو مٹا کر توحید باری تعالیٰ اور رسالت تاب ﷺ کا نام مٹا کر ہم پانچ افراد کو ویگن میں بٹھا کر تھانے لے گئے۔وہاں جا کر عاجز کو سہ بارہ انسپکٹر پولیس نے دو تھپڑ اور ایک تھپڑ AS I نے مارا۔گویا ان کی نظر میں یہ عاجز ہی سب سے بڑا گناہگار مجرم تھا۔اس وقت ہم نو اسیران کلمہ