خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 189
خطبات طاہر جلد ۶ 189 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء پڑتا۔تمہارا رخ کسی اور طرف ہے اولاد کا کسی اور طرف ہے اور اگر اولاد کی حقیقی پرواہ نہیں اور غیروں پر ظلم کرنے پر آمادہ ہوتو پھر تمہارا تقویٰ نہیں ہے۔اس لئے اپنی اولاد کا جو پہلی ہے اس کو نہ بھولیں۔سب سے پہلے خصوصیت کے ساتھ اپنی اولاد کی طرف توجہ کریں اور اگر آپ اپنی اولاد کی طرف متوجہ ہو جائیں گے تو سوسائٹی میں ہر جگہ تقویٰ کی یاد دہانی کرانے والے ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جن کی نصیحت پہ بدظنی نہیں کی جاسکتی ، جن کی نصیحت میں ضرورت سے زیادہ تلخی پیدا ہونی نہیں چاہئے سوائے اس کے کہ اتنے ٹیڑھے ہوں بعض جیسا کہ بعض دفعہ بعض ماں باپ ہو جاتے ہیں کہ خود اپنی اولاد پر ایسی سختی کرتے ہیں جس کا ان کو حق نہیں ہوتا۔دشنام درازی کرتے ہیں، گھر میں اک فساد برپا کیا ہوا ہوتا ہے، چین اڑا لیتے ہیں اپنے بیوی بچوں کا اور پھر اپنے ہاتھ سے ہلاک کر دیتے ہیں اپنی اولا د کو۔ایسے بھی ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا ہے۔وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ (الانعام:۱۵۲) کہ اپنی اولاد کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل نہ کیا کرو لیکن یہ عمومی قانون نہیں ہے۔بھاری اکثریت انسانوں کی ایسی ہے جو اولاد کے متعلق نا واجب سختی پر آسانی سے آمادہ نہیں ہوگی۔اس لئے وہاں آپ کو پریکٹس کرنے کا موقع مل جائے گا تقویٰ کی یعنی تقویٰ پیدا کرنے کی پریکٹس کرنے کا موقع مل جائے گا۔اگر وہاں آپ سیکھ لیں کہ کس طرح تقویٰ پیدا کیا جاتا ہے، کس طرح اصلاح کی جاتی ہے تو پھر نسبتا بہتر ، زیادہ اہل ہو جائیں گے آپ اپنے گردو پیش کی اصلاح کرنے میں۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کھول کے بیان کیا ہے اصلاح کا مضمون بالکل الگ ہے۔اصلاح کے مضمون میں طعن و تشنیع نہیں پائی جاتی ، اس میں غصہ نہیں ہوسکتا ، اس میں دکھ دینا نہیں ہوتا بلکہ دکھ اٹھانا ہوتا ہے اتنا نمایاں فرق ہے اس میں کہ کوئی نابینا ہوگا تو اس کو وہ دکھائی نہیں دے گا ورنہ حقیقت میں یہ فرق بالکل واضح ہے۔آنحضرت ﷺ سے سیکھیں کہ اپنے پر ظلم اور غیروں کے لئے رحمت۔اصلاح جب بھی کی دکھ سے کی اور خود دکھ اٹھا کر کی غیروں کو دکھ میں مبتلا کر کے نہیں کی۔اس لئے یہ محسوس قانون ہے Thumb Rule جس کو انگریزی میں کہتے ہیں۔اس میں آپ کبھی دھوکا نہیں کھائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان اعلیٰ تقویٰ کے مضامین کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: