خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 188
خطبات طاہر جلد ۶ 188 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء تم خدا کی آخری جماعت ہو سو وہ نیک عمل دکھلا ؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔ہر ایک جو تم میں سے سُست ہو جائے گاوہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا۔“ جب خدا نے یہ ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے تو پھر بے وجہ اتنی زیادہ یہ باتیں اپنے ہاتھ لینے کی ضرورت ہی کوئی نہیں جن سے خدا خود بھی ذمہ دار ہو چکا ہے۔فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ خدا تعالیٰ خود ذمہ دار ہے گندوں کو آہستہ آہستہ نکال کر باہر پھینکتا چلا جائے گا اور یہ نمونہ ہم روز دیکھ رہے ہیں ایک جاری نمونہ ہے۔بہت سے ایسے ہیں جو بظا ہر نیک انجام کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن جن کے دل میں گندگی تھی اللہ تعالیٰ نے آخری وقت میں ان کو نیک انجام سے محروم کر دیا۔وہ گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مرے گا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔دیکھو! میں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا در حقیقت موجود ہے اگر چہ سب اسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جو اس کو چتا ہے، وہ اس کے پاس آجاتا ہے جو اس کے پاس جاتا ہے، جو اس کو عزت دیتا ہے وہ بھی اس کو بھی عزت دیتا ہے“۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه : ۱۵) پس اللہ تعالیٰ سے اپنے تقویٰ کا تعلق مضبوط تر کرتے چلے جائیں اور اپنے تقویٰ کی فکر کریں اور اپنی اولاد کے تقویٰ کی فکر کریں۔وہ آپ کی اپنی ذات میں داخل ہے اسی لئے قرآن کریم کی جو آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی اس میں یہ لطیف مضمون بھی بیان فرما دیا اگر تمہیں حقیقہ سوسائٹی کی اصلاح کی فکر ہے تو اپنی اولاد پر پہلے کام کرو۔اس کے لئے دعائیں کرو ، اس کے لئے اصلاح کی کوشش کرو۔اگر تم ایسا کرتے ہو تو تمہارے دل کی سچائی کم سے کم ثابت ہو جائے گی۔تم اس بات کے اہل ہو جاؤ گے کہ غیروں کو بھی نصیحت کرو، ان کے اندر بھی کمزوریاں اگر ہوں تو دور کرنے کی کوشش کرو اور یہ مضمون کھول دیا کہ اولاد سے جب تم یہ معاملہ کرتے ہو تمہیں پتا ہے کہ کیسا معاملہ کرتے ہوں، کیسی اس میں سنجیدگی پائی جاتی ہے اور سنجیدگی کے نتیجے میں پھر اللہ تعالیٰ اس اولاد میں تبدیلیاں بھی پیدا کرتا ہے۔اگر غیر سنجیدہ ہوتے ہو اور محض دکھاوا ہے اس سے کوئی بھی اثر نہیں