خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 146

خطبات طاہر جلد ۶ 146 خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۷ء میں احمق نہیں ہوں، میں مجبور ہوں میرے خدا نے مجھے بنایا ایسا ہے اور اس کو ایسا ہی بنایا تھا یہ بھی مجبور ہے، اس کا کام ہے اس کی فطرت میں ہے کہ یہ ڈنگ مارے گا اور مارتا چلا جائے گا۔میری فطرت میں خدا نے یہ رکھا ہے میں دودھ پلاؤں، بنی نوع انسان کی خدمت کروں، ان کے ہل چلاؤں، ان کے رزق کے سارے انتظام کروں اور پھر آخر خود بھی قربان ہو کر اپنا گوشت بھی بنی نوع انسان کے لئے پیش کر دوں تو میری فطرت میں جب خدا نے یہ رکھ دیا ہے تو میں کون ہوں جو اس فطرت کو بدل دوں۔تو تمہاری فطرت ایک گائے سے لاکھوں گنا زیادہ ہے بنی نوع انسان کے افادے اور بھلائی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔امت محمدیہ ہو۔حضرت محمد مصطفی ﷺ جو رحمۃ للعالمین ہیں ان کی طرف منسوب ہونے والے ہو اس لئے اپنی فطرت کی حفاظت کرو یہ سب سے بڑا خزانہ ہے جو آج اس دنیا میں دوبارہ آسمان سے نازل ہوا اور تم پر نازل ہوا تم پر نازل ہوا۔خدا کی قسم سب سے بڑا انعام دنیا میں جو کسی قوم کو مل سکتا تھا وہ یہی تھا کہ خدا نے پاک خُو فطرت والے جو محمد مصطفی ﷺ کی فطرت پر چلنے والے، وہ دوبارہ اس دنیا میں پیدا کر دیئے ہیں۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج کے جنازوں میں سر فہرست تو یہی ہمارے نہایت ہی پیارے عزیز غلام ظہیر شہید کا جنازہ ہو گا۔اس کے علاوہ بھی بعض جنازے ہیں جو جنازہ غائب پڑھنے والے۔ایک ان میں سے چوہدری صلاح الدین صاحب سابق مشیر قانونی صدر انجمن احمدیہ کی نماز جنازہ ہوگی۔یہ بڑے لمبے عرصہ تک وقف زندگی کے طور پر خدمت دین پر فائز رہے اور صدرانجمن احمدیہ کے مشیر قانونی رہے اور پھر کسی انسانی لغزش ہو جاتی ہے اس کی وجہ سے میں نے ان کو اس عہدے سے فارغ کیا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ابتلا میں بہت ثابت قدم رہے اور ان کی سلسلہ کی وفاداری پر کوئی آنچ نہیں آئی۔اس کے ساتھ ایک اور دلچسپ واقعہ یہ بھی ہے کہ ان کے کسی رشتہ دار نے جو ان کو شائد سمجھتا نہیں تھا پوری طرح مجھے یہ خط لکھا کہ ان کو معاف کر دینا چاہئے کیونکہ ان کا بڑا اثر ہے، ان کا خاندان بڑا وسیع ہے اور سارے خاندان پر برا اثر پڑے گا اس کا۔تو میں نے اس کو لکھا کہ تم نہیں جانتے میں ان کو جانتا ہوں کوئی برا اثر نہیں پڑے گا اور اگر پڑے گا بھی تو میں پھر بزدل نہیں ہوں جو مجھے خدا تعالیٰ نے فیصلہ کرنے کی توفیق دی ہے وہ تو میں بہر حال کروں گا لیکن میں جانتا ہوں ان لوگوں کو اور اللہ تعالیٰ