خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 142

خطبات طاہر جلد ۶ 142 خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۷ء واقعہ سنا تو خود میرے دل پہ بوجھ پڑا اور دعا کے لئے تھوڑی دیر کے لئے روک پیدا ہوئی لیکن کیونکہ اس لئے کہ دعا میں تو سچائی ہونی چاہئے اگر سچائی کے ساتھ دعانہ نکلے کسی قوم کے لئے تو پھر ایسی دعا تو خدا کے نزدیک کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتی بلکہ انسان کے اپنے ضمیر کو گندہ کر دیتی ہے۔جھوٹ خدا سے تو بولا ہی نہیں جا سکتا۔آپ خدا سے رحم مانگیں اور دل میں سختی پیدا ہو چکی ہو اور دل تکلیف کی وجہ سے مجبور ہو کہ دعا نہ کر سکے تو ایسی صورت میں آدمی کیسے وہ دعا کر سکتا ہے دوسروں کو کیسے تلقین کر سکتا ہے۔تو میں نے پھر اس مسئلہ پر غور کیا اور سارے پہلو اس کے دیکھے تو میں نے سوچا کہ اس کے باوجود مجھے جماعت کو یہی تلقین کرنی چاہئے اور میرا دل بھی پھر بعد میں کھل گیا دعا کے لئے کہ ایسے ظالم کم ہیں اسی لئے میں نے یہ تمہید باندھی ہے لمبی کہ اکثریت پاکستان کی ان جرائم میں شریک نہیں ے ورنہ بھی پاکستان کو اتنا بڑا موقع نہیں ملا تھا ک حکومت کھلم کھلا احمد یوںکے قتل و غارت کی تلقین کر رہی ہو اور ہو اور جتنے قتل ہوں وہ مثالیں بن چکے ہوں اس بات کی کہ کبھی پوچھے نہیں جائیں گے اور اس کے باوجود اس سارے کئی سال کے عرصے میں گنتی کے چند قتل ہیں۔اٹھارہ یا انیس شہادتیں بنتی ہیں جبکہ جو فوری طور پر ہنگامی جوش میں فسادات ہوتے ہیں ان میں ایک ہمیں اپنی گزشتہ تاریخوں میں مہینے دو مہینے کے اندر اندر میں چالیس تک شہادتیں پہنچ جایا کرتی تھیں بلکہ بعض دفعہ اس سے بھی کم عرصے میں ایک ہفتے کے اندراندر اتنی شہادتیں ہو جاتی رہی ہیں۔اس لئے یہ ساری بات اگر آپ غور کریں تو ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ پاکستان ملک مظلوم ہے، پاکستانی خودمظلوم ہیں، ان کی بھاری اکثریت بے چاری بہت ہی پراگندہ حال میں زندگی بسر کر رہی ہے۔ایسے غرباء ہیں جن کو سر ڈھانکنے کو کپڑا نہیں ملتا ایسی عورتیں ہیں۔ایسے غریب مسکین لوگ ہیں جن کو سونے کے لئے چھت میسر نہیں ہے، سردیوں میں کپڑے نہیں ملتے بدن ڈھانکنے کے لئے گرمیوں میں سایہ نہیں ملتا، دن کو دھوپ اور مکھیوں کا عذاب، رات کو مچھروں کا عذاب اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بخار، گندے پانی بعض جگہ پانی بھی میسر نہیں۔ایسے ایسے خوفناک علاقے ہیں کراچی اور لاہور وغیرہ میں خصوصا کراچی میں کہ آپ وہاں سے گزر جائیں اور دیکھیں کہ کس طرح خدا کے بندے زندگی بسر کر رہے ہیں تو بدن کانپ اٹھتا ہے ان کی حالت پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ایسے گندے نالوں میں رہ رہے ہیں بے چارے جن کو جب سیلاب آئے تو انہی گندے نالوں میں