خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 77

خطبات طاہر جلد ۶ 77 خطبہ جمعہ ۳۰/جنوری ۱۹۸۷ء بار میں نے اپنے گزشتہ کسی جلسہ سالانہ کی کسی تقریر میں یعنی دس پندرہ سال پہلے یہ بیان کیا تھا ایک موقع پر اور وہ اس مضمون سے ایک مطابقت ضرور رکھتا ہے۔کہتے ہیں ایک میراثی تھا جو ہر موقع پر گاؤں کے چوہدری کو اپنی حاضر جوابی کی وجہ سے شرمندہ کر دیا کرتا تھا اور اس فن میں میراثی بہت مشہور ہیں پنجاب میں۔کتنا ہی کوئی تیز ہوانسان کہتے ہیں جو میراثی ہو یا میراثی زادہ ہو، وہ ضرور ہرا دیتا ہے Repertory میں ، حاضر جوابی میں اور لطیفہ گوئی میں۔اس میراثی بے چارے کی داڑھی نہیں تھی ، بس ایک اس میں کمزوری تھی اور کھودا جسے کہتے ہیں ہم صرف دو بال تھے داڑھی کے بے چارے کے۔اس نے وہی دوسنبھالے ہوئے تھے۔ایک موقع پر جبکہ چوہدری اور میراثی اکٹھے کشتی میں سوار تھے تو دریا میں طغیانی آگئی اور سارے مسافر گھبرا گئے۔تو جیسا کے ہمارے ملک میں رواج ہے کشتی کے ملاح نے یہ اعلان کیا کہ چونکہ طوفان آ رہا ہے اور خطرہ پیدا ہو گیا ہے اس لئے خواجہ خضر کی خیرات کچھ نہ کچھ سب دریا میں پھینک دیں۔اُس وقت چوہدری کو خیال آیا اب وقت آگیا ہے میرا بدلہ لینے کا۔تو چوہدری نے کہا کہ ضروری نہیں ہر ایک کے پاس پیسے ہوں ہم یہ کرتے ہیں کہ سارے اپنے داڑھی کے دو دو بال اکھیڑ کر تو دریا میں پھینک دیتے ہیں۔میراثی سمجھ گیا کہ میرے تو ہیں ہی دو بال یہ تو مجھ پر حملہ ہو گیا ہے۔تو اس نے فوراً جواب دیا کہ چوہدری جی ! اے دو آں دا ویلہ ہے؟ کہ اے چوہدری ! یہ دو کا وقت ہے؟ کون بد بخت ہے جو ساری داڑھی اکھیڑ کر نہ پھینک دے۔تو میں آپ کو بتاتا ہوں ہے تو یہ لطیفہ کہ یہ دو کا وقت نہیں رہا کون بد بخت ہو گا جو اپنی ساری طاقتیں خدا کی راہ میں اب خرچ نہیں کر دیتا اور پوری کوشش نہیں کرتا کہ زیادہ سے زیادہ اللہ کے لئے غلام محمد مصطفی نے جیتنے لگے اس دنیا میں۔پس دو کی باتیں کرنے کا وقت نہیں ہے۔لیکن کمزوروں پر جب نظر کی جاتی ہے، وہ جو جن کے پاس ہیں ہی دو، یعنی جن کی طاقت ہی دو تک پہنچتی ہے تو ان کو بھی ساتھ لے کہ چلنا پڑتا ہے لیکن یہ مراد نہیں کہ آپ میں سے ہر ایک دو کی تمنا لے کر آگے بڑھے، یا دو کا عزم لے کر آگے بڑھے۔آپ ہزاروں کا عزم لے کر آگے بڑھیں اور دعا کریں اور کوشش کریں اور دعا کے ذریعے اپنی توفیق بڑھاتے چلے جائیں پھر دیکھیں کہ کس شان کے ساتھ آپ اگلی صدی میں داخل ہو رہے ہوں گے۔کتنا لطف آئے گا، کتنا اطمینان ہو گا آپ کو کہ ان دوسالوں کے اندر