خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 554 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 554

خطبات طاہر جلد ۶ 554 خطبه جمعه ۲۱ را گست ۱۹۸۷ء کون سا گروہ ملوث ہے اس وقت تک ہمارا یہ اخلاقی حق نہیں بنتا کہ ہم کسی کو ملزم کریں۔ہم دنیا کی طرح تو نہیں ہیں کہ ایک قتل ہو گیا تو اندازہ لگا کر بچیں تھیں یا بعض دفعہ پورے کے پورے خاندان کا نام شبہ میں لکھوا دیا گیا۔اس لئے ہمیں ایسے مواقع پر اپنے اخلاق کی حفاظت کرنی چاہئے ، اپنے اعلیٰ اصولوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔مسجد کا نقصان ہو یا کوئی اور عمارت کا نقصان ہو یہ اصولوں کے نقصان اور اخلاق کے نقصان کے مقابل پر کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا۔مسجدیں تو بنتی ہیں صاحب اخلاق لوگوں کے ذریعے، صاحب ایمان لوگوں کے ذریعے ورنہ دنیا کی بڑی بڑی قو میں عظیم الشان کروڑوں، اربوں روپے کی مسجدیں بنا سکتی ہیں ان کی کیا حیثیت ہوگی خدا کی نظر میں جب تک نمازی متقی نہ ہوں ، جب تک مسجدوں میں جانے والوں کے اخلاق بلند نہ ہوں ،ان کے نام کے ساتھ اسلام کا حسن جب تک وابستہ نہ ہو ، اس وقت تک ان مسجدوں کی کوئی بھی قیمت نہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ فرماتا خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف :۳۲) جب مسجدوں میں جایا کرو تو اپنی زینت یعنی تقویٰ کو ساتھ لے جایا کرو کیونکہ وہاں تمہارے تقویٰ ہی سے مسجدوں کی رونق بنتی ہے۔پس ظاہری مساجد کی تو کوئی حیثیت نہیں ہے، مسجد میں جانے والوں کی حیثیت ہے۔ان سے مسجدوں کو زینت ملتی ہے وہ اپنی زمینیں لے کے ساتھ جایا کرتے ہیں۔پس اگر مسجد کو بھی نقصان پہنچ جائے اور آپ اس زینت سے بھی محروم رہ جائیں جس سے آپ کی مسجد کی رونق بنی تھی تو یہ بڑا نقصان ہے۔اس لئے ایسے ہر ابتلا میں اپنے قیمتی اور دائمی اصولوں کو بالکل نہیں چھوڑنا۔دشمن خواہ کتنی بھی زیادتی آپ پر کرے، دشمن کی دشمنی میں اپنی جان کے دشمن بنا تو کوئی عقل کی بات نہیں ہے۔ہماری سب سے زیادہ قیمتی جان سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہمارا ایمان ہے، ہمارے اصول ہیں ، ہماری اعلیٰ اخلاقی قدریں ہیں جو اسلام سے ہمیں عطا ہوئی ہیں ان قدروں کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔اس لئے میں نے امیر صاحب سے آتے ہی جو بات کی وہ یہی تھی کہ کوئی الزام بغیر کسی دلیل کے بغیر کسی قطعی ثبوت کے ہمیں دوسرے پر نہیں لگانا چاہئے۔ایک چیز البتہ ہے جس سے ہم یقینی طور پہ کہہ سکتے ہیں اور اسی تک ہمیں اپنی توجہ کو مبذول رکھنا چاہئے ، اسی تک ہمیں اپنے بیانات کو محدود رکھنا چاہئے۔وہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے متعلق ہم بغیر کسی شبہ کے جانتے ہیں کہ حکومت پاکستان