خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 316
خطبات طاہر جلد ۶ 316 خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۷ء کے نتیجے میں آپ کے دل میں سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی اور آپ اسی وقت اٹھ کر یعنی جب رات کے تقریبا بارہ بجے تھے مولوی محمد احسن صاحب امروہوی کی کوٹھڑی میں تشریف لے گئے آپ نے دروازے پر دستک دی ، مولوی صاحب نے پوچھا کون ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جوابا فرمایا " غلام احمد۔مولوی محمد احسن صاحب نے دروازہ کھولا تو حضور نے فرمایا مجھے ایک کشفی صورت میں خواب میں دکھلایا گیا ہے کہ میرے گھر سے یعنی حضرت ام المؤمنین کہتی ہیں اگر میں فوت ہو جاؤں تو میری تجہیز و تکفین آپ خود اپنے ہاتھ سے کرنا اس کے بعد مجھے ایک بڑا منذ ر الہام ہوا ” غاسق اللہ مجھے اس کے معنی یہ معلوم ہوئے ہیں کہ جو بچہ میرے ہاں پیدا ہونے والا ہے وہ زندہ نہ رہے گا اس لئے آپ دعا میں مشغول ہوں اور باقی احباب کو بھی اس کی تحریک کریں۔چنانچہ ان دعاؤں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کی زندگی بچالی اور اس کے بعد خدا تعالیٰ نے لمبا عرصہ زندگی عطا فرمائی اور اس کی برکتوں کو ساری جماعت میں تابعین نے اور تبع تابعین نے مشاہدہ کیا۔جہاں تک اس بچی کے متعلق یہ خبر تھی کہ وہ فوت ہو جائے گی یہ بچی اسی سال ، یعنی جنوری میں پیدا ہوئی ہے اور 3 دسمبر 1903 ء کو یہ بچی انتقال کر گئی ( تاریخ احمدیت جلد ۲ صفه ۲۷۳)۔تو حیرت انگیز طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس کشفی خبر کو اور الہام کو پورا فرمایا، ایک خطرے کو ٹال دیا دعا کے نتیجے میں اور دوسرے حصے کو پورا فرما دیا۔اس صبر کے نتیجے میں جو جزا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائی اور حضرت اماں جان کو وہ حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ تھیں۔چنانچہ آپ کے متعلق رخت کرام کا الہام تسکی اور محبت کے اظہار کے علاوہ یہ بتاتا ہے کہ آپ کے کریمانہ اخلاق کولوگ مشاہدہ کریں گے اور اس کے گواہ ٹھہریں گے کیونکہ دُختِ کرام کا یہ مطلب تو نہیں کہ کریمانہ اخلاق والوں کی بچی جو خود بھی چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے اور لوگوں کو کیا پتا لگے کہ کریمانہ اخلاق والوں کی بچی تھی بھی کہ نہیں اس میں لمبی عمر کی ایک پیشگوئی شامل تھی۔مطلب یہ تھا کہ ایسی بچی جو اپنے اخلاق سے ثابت کرے گی کہ وہ کریمانہ اخلاق والوں کی بیٹی ہے اور یہ ایک عام محاورہ ہے کسی اچھے بزرگ کی اولاد کے ساتھ اس بزرگ کی اولاد سے اچھے اخلاق کی توقع کی جاتی ہے اور جب اس سے اچھے اخلاق ظاہر ہوتے ہیں تو سب کہنے والے خراج تحسین دیتے ہوئے اس شخص کے بزرگوں اور آبا ؤ اجداد کو بھی یا در کھتے ہیں اور کہتے ہیں ہاں تم نے حق ادا کر دیا آخر کن لوگوں کی اولاد تھے۔