خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 91

خطبات طاہر جلد 1 91 خطبه جمعه ۶ فروری ۱۹۸۷ء کوئی ایسی چیز نہیں ہے دعا ایسے لوگوں کے نزدیک جو زندگی میں کوئی اہم کردار ادا کرے ، کوئی مؤثر کردار ادا کرے۔ تو وہ کہتے ہیں اوّل تو دعا کی کوئی اہمیت نہیں ۔ دوسرے وہ دوست لکھتے ہیں کہ مجھے ایک اور لطف بہت آیا کہ ہم جب جن لوگوں کو کبھی رسماً دعا کے لئے کہنے جاتے ہیں پیروں اور ہے بزرگوں کو تو کبھی انہوں نے آگے سے یہ نہیں کہا کہ تم اپنے لئے بھی دعا کرو اور باقاعدہ کرو۔ وہ سمجھتے ہیں صرف ان کی دعا کی طاقت ہے اور وہ ہے ہی نہیں اور یا وہ ہاتھ اُٹھا کر نیچے گرا دیتے ہیں یا وہ کہتے ہیں ہم آپ کے لئے دعا کر دیں گے اور کام ہو جائے گا۔ کہتے ہیں میں نے جب بیعت کی تو میں نے آپ سے دعا کے لئے کہا تو آپ نے اسی وقت مجھے کہا کہ ہاں میں بھی کروں گا لیکن تم بھی اپنے لئے با قاعدہ دعا کرو۔ تو میں حیران رہ گیا کہ دعا کا ایک یہ پہلو بھی ہے ۔ ایک زندہ فعال ایک آلہ کار ہے جسے ہر شخص استعمال کر سکتا ہے۔ تو اس لئے دعا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح ایک حقیقت بنا کر پیش کیا ہے، بنا کر نہیں حقیقت دکھا کر پیش کیا ہے حقیقت تو یہ تھی ہی لیکن حقیقت ایسی تھی کہ دکھائی نہیں دے رہی تھی دنیا کو۔ اتنا زور دیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا پہ کہ آپ تعجب کریں گے کہ گزشتہ بزرگوں کی کتابیں کی کتابیں پڑھ جائیں ان میں اتنا زور دکھائی نہیں دے گا ، اجتماعی طور اتنا گا، پر اتنا زور دکھائی نہیں دے گا جتنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا پر زور دیا اور اس مضمون کے ہر پہلو کو کھول کر بیان فرمایا۔ تو یہ جو منصوبہ ہے اس کی کامیابی کے لئے بہت دعاؤں کی ضرورت ہے اور ہر چیز میں دعا کے ذریعے برکت پڑے گی اور جب وہ برکت پڑے گی تو آپ کے ایمان میں نئی تازگی پیدا ہو گی ، نیا روحانی رزق آپ کو حاصل ہوگا جس سے ایک نئی شخصیت وجود میں آنی شروع ہو جائے گی اور اس شخصیت کی ضرورت ہے جماعت کو اگلی صدی میں ۔ اس نئی روحانی شخصیت کو جس نے خدا کو عملاً دیکھا ہو اس کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم کیا ہوتا کہ جو بہت عظیم کام ہمیں بعد میں کرنے ہیں ان کو ہم زیادہ بہتر رنگ میں زیادہ یقین اور عزم کے ساتھ اور زیادہ کامیابی کے ساتھ سرانجام دے سکیں۔ جہاں تک ملکوں کے منصوبے کا تعلق ہے جن ممالک کے سپر د نئے ممالک کئے گئے تھے ان میں سے بعض نے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی محنت کی ہے اور بہت ہی اللہ تعالیٰ نے ان محنتوں کو