خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 873
خطبات طاہر جلد ۶ 873 خطبہ جمعہ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء اعلان ہوتا رہا ہے۔چنانچہ اس تمہید کے بعد اب میں وقف جدید کے سال نو کا اعلان کرتا ہوں اور جیسا کہ وقف جدید کے کوائف بھی آپ کو بتا ئیں گے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک کے حالات کا جس اونچ نیچ سے یہ تحریک گزررہی ہے اور اس وقت جس مقام پر پہنچی ہے ان سب حالات کا جائزہ لینے سے قطعی طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بھی ایک زندہ جماعت کی زندہ اور سرسبز شاخ ہے اور اس کی طرف بدنیتی کا تبر نہیں چلایا جا سکتا یعنی یہ ہر حال میں نشو ونما پائے گی اور پاتی رہی ہے اور آگے بڑھتی رہے گی انشاء اللہ تعالی۔چنانچہ گزشتہ چند سالوں میں وقف جدید پاکستان کا بجٹ اور وصولی کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتے رہے ہیں اور جب میں نے وقف جدید کو چھوڑا تھا مجھے اس وقت صحیح یاد نہیں غالباً بارہ تیرہ لاکھ کے قریب بجٹ تھا، تیرہ یا چودہ لاکھ بجٹ تھا اور اب اس تھوڑے سے عرصے میں جو ابتلاؤں کا دور ہے خدا کے فضل سے تقریبا دگنا ہو چکا ہے اور 87ء کا بجٹ ستائیس لاکھ پینتالیس ہزار روپے تھا اور اس وقت تک کی جو وصولی ہے اس میں بھی خدا کے فضل سے نمایاں اضافہ ہے۔گزشتہ سال اس وقت تک سترہ لاکھ چوالیس ہزار روپے وصولی تھی اور امسال اس وقت تک ہیں لاکھ ستاسی ہزار روپے وصولی ہے اور چونکہ سال کے آخر پر پرانی روایات اسی طرح قائم ہو چکی ہیں کہ سال کے آخر پر وصولی اکٹھی ملتی ہے یعنی اس کی یہ نسبت نہیں ہوا کرتی کہ ہر مہینے جتنی وصولی ہورہی ہے سال کے آخری مہینے میں بھی اسی طرح ہوگی بلکہ بسا اوقات سال کے آخری ہفتے میں اتنی وصولی ہوتی ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں کی وصولی سے بھی بڑھ جاتی ہے اور پھر وصولی کی اطلاعیں جو بعد میں آتی رہتی ہیں اور کچھ بعد میں وصولیاں ہوتی ہیں وہ ملا کر مارچ تک تقریبا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور بالعموم میں نے دیکھا ہے کہ کم از کم ایک چوتھائی ان آخری دنوں میں وصول ہوتا ہے۔اس لئے امید ہے اللہ تعالیٰ سے کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ بجٹ ستائیس لاکھ کا نہ صرف پورا ہوگا بلکہ بفضلہ تعالیٰ وعدوں سے بھی آگے بڑھ جائے گا اور واقعہ ہونا بھی یہی چاہئے کیونکہ ہمارے وعدوں کا نظام ایسا ہے کہ بہت سارے ایسے چندہ ادا کرنے والے جو وعدوں میں شامل نہیں ہو سکتے بعد میں وہ چندہ ادا کر دیتے ہیں اور وعدوں میں شامل نہ ہونا بسا اوقات ایک یقین کے نتیجے میں بھی ہوتا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے تو دینا ہی دینا ہے کیا فرق پڑتا ہے وعدہ لکھوائیں نہ لکھوائیں اور وہ وعدوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں بے شک