خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 872 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 872

خطبات طاہر جلد ۶ 872 خطبہ جمعہ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء رہی ہیں جماعت کو روکنے کے لئے ان میں سے جلسے کا روکنا بھی ایک کاروائی ہے ہمارے لٹریچر کو کلی بند کر دینا بھی ایک کا روائی ہے، ہمارے تمام اخبارات اور رسائل کے گلہ گھونٹ دینا بھی ایک کاروائی ہے، ہمیں تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دینا یہاں تک کہ کلمہ لا اله الا الله محمد رسول الله پڑھنے کے بنیادی انسانی حق سے بھی محروم کر دینے کی کوشش کرنا یہ ایک کاروائی ہے۔ان حالات میں جبکہ اس کے علاوہ بھی دنیاوی ظالمانہ کاروائیاں بھی جاری ہوں قتل و غارت بھی ، بنیادی حقوق یعنی نوکریوں میں حقوق سے محروم کرنا، طلبہ کو ان کے حقوق سے محروم کر دینا ، عام روز مرہ کی زندگی دوبھر بنا دینا یہ بھی ساتھ ساتھ جاری ہو تو کون سوچ سکتا ہے کہ ایسی جماعت ایسے خطرناک حالات میں ترقی کر سکتی ہے؟ اگر یہ جھوٹ ہو، اگر یہ فریب ہے تو ناممکن ہے کہ ایسے خطرناک حالات میں کوئی جماعت بھی پنپ سکے کجا یہ کہ ترقی کرتی رہے، کوئی جماعت سانس لے سکے اور زندہ رہے یہ بھی تعجب کی بات ہے اور اس جماعت کو مارنے کی خاطر تباہ کرنے کے لئے کلیہ صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے لئے یہ کاروائیاں کی گئی تھیں اور کی جارہی ہیں۔اور اس کا نتیجہ ؟ جماعت اپنے اخلاص میں پہلے سے زیادہ ترقی کر چکی ہے، اپنی عبادتوں میں پہلے سے زیادہ ترقی کر چکی ہے، اپنے حوصلوں میں پہلے سے زیادہ ترقی کر چکی ہے، اپنے ایمان اور یقین محکم میں پہلے سے زیادہ ترقی کر چکی ہے۔ہر قربانی کے میدان میں جس قربانی کے میدان کی طرف ان کو بلایا جاتا ہے وہ پہلے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ پہلے سے زیادہ سعادت قلبی کے ساتھ لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ایسی زندہ جماعت کو جسے قرآن کریم رجائی کی جماعت فرماتا ہے کون اس دنیا میں جو جو مار سکے؟ ناممکن ہے اور پھر باقی تمام دنیا کی جماعتوں پر جو رونق آئی ہے غیر معمولی طور پر ترقیات ہور ہیں ہیں یہ اسی خزاں کی برکت ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الہی وعدوں کے متعلق فرمایا تھا کہ: بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں ساری دنیا میں اس خزاں کے صدقے آپ بہار کے مناظر دیکھنے لگے ہیں۔یہ زندہ جماعتوں کی علامت ہے اور جن کو خدا سے زندگی ملتی ہے جن کو آسمانی پانی کے ذریعے زندہ کیا جاتا ہے ان کو دنیا کی خشکیاں مار نہیں سکتیں۔یہ ایک اٹل قانون ہے جسے آپ کبھی تبدیل ہوتا نہیں دیکھیں گے۔اس سال کے آخری خطبے میں اور بعض دفعہ نئے سال کے پہلے خطبے میں وقف جدید کا