خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 871 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 871

خطبات طاہر جلد ۶ 871 خطبہ جمعہ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء براه راست وہ عبور حاصل نہیں کر سکتے تھے اس لئے ان کی بڑھنے کی قوت اس عرصے میں جمع ہوتی رہی ہے۔چنانچہ جیسا کہ کسی نے کہا ہے:۔پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور (دیوان غالب صفحہ : ۱۱۷) خدا کے بندوں کی طبعیں جب روک دی جاتی ہیں تو نالے تو پیدا ہونے بند نہیں ہوا کرتے۔جو مومنوں کو خدا تعالیٰ نے طبعی نشو و نما کی قوتیں عطا فرمائی ہیں وہ تو نہیں مر جایا کرتی۔اس لئے کچھ نہ کچھ زور لگا کر وہ اندرونی سیلاب کہیں سے تو رستے نکالتا ہی رہتا ہے لیکن پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ ساری روکیں تو ڑ دی جاتی ہیں اور وہ پہلی کمی کو بڑی شان کے ساتھ پورا کرتے ہوئے بڑی قوت کے ساتھ پھر آگے بڑھتے ہیں۔دوسرا ان کے ساتھ خدا تعالیٰ یہ سلوک فرماتا ہے کہ ساری دنیا میں ہر جگہ ان کے لئے ایک جیسا وقت نہیں ہوا کرتا۔اسی کے ساتھ ہجرت کے مضمون کا تعلق ہے۔بعض جگہ ان کے لئے نسبتا کمزوری کا وقت آتا ہے تو بعض دوسری جگہوں پر غیر معمولی طور پر ان کے لئے آگے بڑھنے اور نشو ونما کے وقت آجاتے ہیں اور ایک جگہ کی جو کمی ہے وہ سینکڑوں دوسری جگہوں سے پوری کر دی جاتی ہے اور مجموعی طور پر خزاں میں بھی وہ بہار کا منظر دکھاتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا وہ شعر جو مجھے بہت ہی پیارا ہے بارہا میں اس کو آپ کے سامنے پڑھ چکا ہوں اس کا یہ ایک مفہوم ہے جس کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ:۔بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں (در ثمین صفحه: ۵۰) بعض مقامات پر وقتی طور پر آپ یہ شعر صادق ہوتا نہیں دیکھیں گے لیکن اس مضمون کو کلیۂ عالمی سطح پر آپ سمجھیں تو پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ مومن کے او پر خزاں آہی نہیں سکتی۔جب خزاں آتی بھی ہے تو ہزار دوسری جگہوں پر خدا تعالیٰ بہار کے مناظر پیدا کر کے اس خزاں کے اثر کو زائل فرما دیا کرتا ہے، اس کی تلافی فرما دیتا ہے اور جہاں خزاں آتی بھی ہے وہاں بھی نئی نئی کونپلیں پھوٹا کرتی ہیں۔چنانچہ ان دنوں پاکستان میں جس قسم کے حالات ہیں اور جس قسم کی ظالمانہ کاروائیاں ہو