خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 870 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 870

خطبات طاہر جلد ۶ 870 خطبہ جمعہ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء پس جماعت احمدیہ کی تقریبا سو سالہ تاریخ ہمیں یہی بتا رہی ہے کہ جس طرح دور اول میں حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے غلاموں کے حالات تھے جن کو رجائی فرمایا گیا ان پر روشنیوں کے وقت بھی آئے اور اندھیروں کے وقت بھی آئے ان پر ، نرمی کے وقت بھی آئے ان پر بختی کے وقت بھی آئے لیکن ہر حال میں وہ ہمیشہ آگے بڑھتے رہے۔کبھی کچھ تکلیف کے ساتھ اور دکھ کے ساتھ چھوٹے قدموں سے کبھی بڑی شان کے ساتھ تیز قدموں کے ساتھ دوڑتے ہوئے آگے بڑھے لیکن ایک بھی دن ایسا حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں کی زندگی میں نہیں آیا جب آپ کے قدم رک گئے ہوں یا روک دیئے گئے ہوں اور آپ کو پیچھے ہٹنا پڑا ہو۔ایک بھی رات ایسی نہیں آئی جس نے آپ کو زندگیوں کو نور سے محروم کر دیا ہو۔بارش کی مثال میں شبنم فرمایا گیا ہے، رات کی مثال میں ستاروں کو قرآن کریم پیش فرماتا ہے کہ اگر سورج کی روشنی سے کوئی محروم ہو جائیں یا چاند کی روشنی سے بھی محروم ہو جائیں تو ستارے ان کی رہنمائی فرماتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے بھی قرآن کریم میں ستاروں کی روشنی کے ذکر کو روحانی معنوں میں پیش فرمایا ہے۔چنانچہ فرمایا اصحابی کا النجوم بایھم اقتديتم اهتديتم ( تحفة الطالب جوا صفحہ ۵۶۱) میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں اگر میں بھی نہ ہوں اور مجھ سے نور پانے والے چاند بھی باقی نہ رہیں دوسرے کسی ایک جگہ میرا کوئی صحابی موجود ہو تو وہ تمہارے لئے ستاروں کی طرح روشنی پیدا کرنے والا ہو گا۔چنانچہ مومنوں کی عجیب حالت ہے عجیب شان ہے کہ خشک سالی میں خدا ان کے لئے شبنم برسا دیتا ہے اسی پر زندہ رہتے ہیں، اسی پہ آگے بڑھنے کی طاقت پا جاتے ہیں اور اندھیروں کے وقت خود ان کو ستاروں کی روشنی میسر آجاتی ہے کسی حالت میں بھی کلیہ یہ فوائد سے اور ترقیات سے محروم نہیں کئے جاتے۔چنانچہ جماعت کی تاریخ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ اس کے زیر و بم کا مطالعہ کریں کئی بڑے بڑے خطرناک وقت آئے ہیں جبکہ دشمن سمجھتا تھا کہ وہ جماعت کو ہلاک کر دے گا صفحہ ہستی سے اس کی صف لپیٹ دے گا اس وقت بھی جماعت ترقی کرتی رہی۔مقابلہ چند سختی کے دنوں میں کچھ رفتار میں کمی دکھائی ضرور دی لیکن خدا تعالیٰ نے اس کمی کو ہمیشہ دو طریق سے پورا کیا ہے۔وہ کمی چونکہ ایک طبعی فطری کمزوری کے نتیجے میں نہیں تھی بلکہ ایسے حالات کی بنا پر تھی جن پر