خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 869 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 869

خطبات طاہر جلد ۶ 869 خطبہ جمعہ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء کا رخ تبدیل کرنا نہیں ہوا کرتا۔اس لئے جب اچھے وقت کافروں پر آتے ہیں یا خدا کے دشمنوں پر آتے ہیں تو آپ ان کو بڑے زور سے شور مچاتے ہوئے بڑی تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بڑھتا ہوا دیکھتے ہیں گویا ایک سیلاب آ گیا ہے اور جب دن بدلتے ہیں اور ان کے لئے جیسا کہ خدا نے مقدر فرما رکھا ہے راتیں آتی ہیں تو ان کی آواز میں غائب ہو جاتی ہیں منظر سے۔ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے یہاں کبھی کوئی سیلاب تھا ہی نہیں۔جیسے افریقہ کے ایک حصے میں جب سخت دن آتے ہیں تپش کے گرمی کا موسم آتا ہے تو ہر طرف پانی سوکھ جاتا ہے اور اس وقت جب جان منظر سے غائب ہونے لگتی ہیں یعنی یوں لگتا ہے کہ زندگی ختم ہو جائے گی اس وقت ایک سیلاب اٹھتا ہے، بڑی دور سے ایک سیلاب آتا ہے جو اچانک دیکھتے دیکھتے صحرا کے منظر تبدیل کر دیتا ہے۔صحرائے کالا ہیری کے جنوب کی طرف غالباً یہ علاقہ ہے جہاں اس قسم کا واقعہ ہر سال ہوتا ہے اور دور دور سے جانور اپنی پیاس بجھانے کے لئے اور زندگی بچانے کی خاطر ایک طبعی فطری اشارے کے طور پر اس طرف بھاگتے ہیں۔تو سیلاب تو آجاتے ہیں ہر جگہ صحراؤں میں بھی سیلاب آجایا کرتے ہیں لیکن صحراؤں کے سیلاب ہمیشہ کے لئے صحرا کے منظر نہیں بدل سکتے۔وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں زندگی ان کے ساتھ آتی ہے اور ان کے ساتھ ہی لوٹ بھی جایا کرتی ہے لیکن مومن کی مثال خدا تعالیٰ نے اور طرح سے دی ہے۔فرمایا ہے ان کے لئے ، مومنوں کا تو یہ حال ہے کہ جیسے ایک ایسی زمین کو جو نہایت ہی شادابی کی طاقت رکھنے والی ، نہایت طاقتور زمین ہو اور پانی کو اپنے اندر رو کنا جانتی ہو اس کے اوپر اگر موسلا دھار بارش بھی برسے تو زمین کو بہا کر نہیں لے جاتی بلکہ اس کی روئیدگی میں نئی شان پیدا کر دیتی ہے، نئی قوت پیدا کر دیتی ہے۔اس کے مقابل پر کافر کی روئیدگی سطحی ہوا کرتی ہے وہ نظر آتی ہے دیکھنے میں لیکن وقتی اور عارضی ہوتی ہے، جب تیزی کے ساتھ اس پر بارش برستی ہے تو اس کی بناوٹ کی ظاہری روئیدگی اس کی سرسبزی اور شادابی بارش کے ساتھ بہہ جاتی ہے بسا اوقات اور پھر جب خشک موسم آتا ہے تو پھر تو اس کے مقدر میں رہتا ہی کچھ نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ مومنوں کی مثال ایسی زمین سے ہے کہ جب بارش برستی ہے تو وہ بہت زیادہ اگاتی ہے اور جب نہیں برستی تو خدا ان کو شبنم سے محروم نہیں کیا کرتا۔پس شبنم بھی ان کے لئے کافی ہو جایا کرتی ہے اور اس حالت میں بھی وہ ویرانوں میں تبدیل نہیں ہوا کرتی زمین بلکہ سرسبز و شاداب رہتی ہے۔اس کی زندگی قائم رہتی ہے۔