خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 861
خطبات طاہر جلد 1 861 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۸۷ء اور ساری زندگی شیطان کے ساتھ اس کی اس بات پر لڑائی رہتی ہے جو ہر پہلو سے انسان کی توحید پر حملے کرتا ہے چھپ کر بھی ظاہری طور پر بھی کئی طرح کے بھیس بدل کر اور بظاہر ہر پہلو سے اس سے لڑائی کرتا ہے اور یہ لڑائی مومن جیت نہیں سکتا جب تک خدا سے اس بارے میں مدد نہ مانگتار ہے۔ چنانچہ سورۃ فاتحہ میں جو دعا کی جان ہمیں سکھائی یعنی :۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه : ۵) اس کا یہی مطلب ہے ۔ ہر لمحہ انسان اپنی عبادت کے لئے یعنی عبادت کے خلوص کے لئے اس دعوٹی کے اثبات کے لئے وہ خدا کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتا خدا کا محتاج رہتا ہے اور خدا کی مدد کے سوا شیطان سے یہ جنگ نہیں جیتی جاسکتی ۔ اس لئے اپنی عبادت کی حفاظت کریں اس کو ہر قسم کے شرک سے پاک کریں اور قرآن کریم نے جو یہ فرمایا عبادت کی تعریف میں :۔ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكوة ( البينة : (٢) ان شرطوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں اپنے دین کو خدا کے لئے خالص کریں اور نقاء میلان ہمیشہ خدا کی طرف رکھیں ۔ ایسی حالت میں کہ جب گریں خدا کی طرف گریں دوسری طرف نہ گریں۔ ایسی زندگی کا میلان جس کا ہو جائے جس کا دل خالص ہو جائے وہ اس بات کا اہل ہوتا ہے کہ نماز کو قائم کرے ۔ چنانچہ فرمایا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّکوة ایسے لوگوں کی نمازیں نمازیں ہو جاتی ہیں ، ایسے لوگوں کی زکوۃ زکوۃ بن جاتی ہے اور خدا کے حضور اس کی نیکیاں قبول کی جاتی ہیں۔ پس عبادت کی حفاظت سب سے اہم فریضہ ہے اور عبادت سے شرک کی بیخ کنی ایک مسلسل جد و جہد کا نام ہے۔ یہ خطبہ سننے کے بعد اگر آپ اپنی نمازوں اور عبادت کی حالت پر غور کریں گے تو آپ حیران ہوں گے یہ دیکھ کر کہ ان نمازوں پر اس وقت حملہ ہورہا ہے، آپ کو پتا نہیں تھا کہ ان پر حملہ ہو رہا ہے، بہت سی نمازوں میں چاروں طرف سے شیطان حملہ کر رہا ہے اور نمازوں کو ضائع کرتا چلا جا رہا ہے۔اس لئے جب تک آپ کو احساس نہ ہو گا حملہ ہو گیا ہے اس وقت تک آپ لڑائی کس طرح کر سکتے ہیں ۔ اس لئے ہر نماز جو احمدی پڑھتا ہے اسے غفلت کی حالت میں نہ پڑھے، نیم خوابیدہ حالت میں بھی نہ پڑھے یعنی کبھی آنکھ کھل گئی اور کبھی آنکھ لگ گئی۔ ایسی نمازیں بھی ہوتی