خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 860
خطبات طاہر جلد ۶ 860 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے ان کے اندر کوئی ہم آہنگی نہیں ہوتی ان کی Wave Length بدل چکی ہوتی ہیں ان کے مزاج بدل چکے ہوتے ہیں ایسے لوگ ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (البقره (۷) کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے برابر ہو جاتا ہے خواہ تم ان کو ڈراؤ خواہ نہ ڈراؤ یہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔اس لئے نہ ایمان لانے والے در حقیقت اپنے نفس کی عبادت کرنے والے لوگ ہیں اور ان کی زندگی کے عام پہلو جو ہیں ان میں وہ عبادت کھل کر نظر آنے لگ جاتی ہے۔جس دور کو آپ مادہ پرستی کا دور کہتے ہیں نفسانی خواہشات کی پیروی کا دور کہتے ہیں دنیا طلبی کا دور کہتے ہیں۔یہ جب اندرونی شرک پھوٹ کر منظر پر ابھر آتا ہے اس وقت ایسی سوسائٹی پیدا ہوتی ہے اور یہ سوسائٹی کی انتہائی مذلت کی حالت ہے لیکن جیسا کہ آپ غور کر کے دیکھیں گے اس کا آغا ز دلوں کے شرک سے ہوا تھا مخفی شرک سے یعنی اور تمناؤں کو اہمیت دینے کے نتیجے میں رفتہ رفتہ خدا کی بجائے دوسرے خدا آپ کے دل نے گھڑنے شروع کئے۔اس لئے مومن کے لئے کوئی بھی مقام اس لحاظ سے محفوظ نہیں ہے کہ وہ سمجھ لے کہ اب میں توحید میں کامل ہو گیا ہوں تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ڈرتے ڈرتے زندگی بسر کرنی چاہئے۔تبھی قرآن کریم تقویٰ کے اوپر اتنا زور دیتا ہے اور بار بار زور دیتا ہے۔تقویٰ ڈر کا نام ہے، خوف کا نام ہے مگروہ خوف ہے خدا کی رضا کھو دینے کا خوف یا جو رفعتیں خدا کی طرف سے نصیب ہوئی ہیں وہ رفعتیں کھو دینے کا خوف ، بلندی سے گرنے کا خوف اس کا نام تقویٰ ہے۔پس اگر خدا کی طرف حرکت کرنا بلندی کی طرف حرکت کرنا ہے تو اس بلندی کی ہر منزل پر گرنے کا خوف بھی انسان کو لاحق رہتا ہے اور جو خوف سے مستغنی ہو جائے اس کے لئے ٹھوکر کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے ہر احمدی کو خصوصیت کے ساتھ اس امر کی طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ وہ محض اپنے اقرار توحید سے موحد نہیں بن گیا اور اگر اس اقرار نے اس کو مواحدین کی صف میں داخل کر بھی دیا تھا تو اس اقرار کے بعد اس کی اصل لڑائی شیطان سے شروع ہوئی ہے۔یہ منہ کا اقرار فتح کا شادیانہ نہیں ہے، یہ منہ کا اقرار اعلان جنگ کا رنگل ہے۔جو شخص حقیقۂ توحید کا اقرار کرتا ہے وہ ایک میدان جنگ میں داخل ہو رہا ہے اور پھر اس کی تمام عمر ایک عظیم مجاہدہ میں صرف ہوتی ہے