خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 859
خطبات طاہر جلد ۶ 859 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء داخل ہو چکا ہے۔پھر وہ انبیاء جن کی وہ حفاظت فرماتا ہے اللہ تعالیٰ ان کی تمنا سے شیطان کو بے دخل کر دیتا ہے لیکن وہ لوگ جو مقام محفوظ پر نہیں ہیں ان کے لئے خطرہ ہمیشہ رہتا ہے کہ ان کی تمنا بن کے شیطان بیچ میں آتا چلا جائے۔پس اس طرح قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ انسان شیطان کی عبادت کر رہا ہوتا ہے اور اس کو پتا ہی نہیں کہ میں شیطان کی عبادت کر رہا ہوں۔ایک طرف فرمایا کہ تم اپنے نفس کی عبادت کرتے ہو یہ بات تو عام پہچانی جاسکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنی خواہشات کو اپنا خدا بناتے ہیں ان کی یہ خواہش ان کی عبادت میں بھی ان کا خدا بن کر سامنے آجایا کرتی ہے اور بسا اوقات ان کو ہوش آتی ہے ایسی حالت میں کہ وہ خدا کی بجائے اپنے دل کی تمنا کی عبادت کر رہے ہوتے ہیں اور پھر بھی ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم شیطان کی عبادت کر رہے ہیں۔قرآن کریم نے اس مسئلے کو حل کر دیا۔فرمایا وہ شیطان تمہاری امنیہ میں داخل ہوتا ہے، تمہارے دل کی امنگوں اور تمناؤں کا بھیس بدل کر تمہارے اندر داخل ہو جاتا ہے اور جس کو تم اپنے نفس کی پیروی سمجھ رہے تھے وہ دراصل شیطان کی پیروی بن جاتی ہے جس کو تم اپنے نفس کی عبادت کے طور پر بعض دفعہ پہچان سکتے ہو اوراکثر نہیں پہچانتے وہ دراصل شیطان کی عبادت ہو جاتی ہے۔تو شرک کا مضمون تو بہت ہی تفصیلی ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ تو حید کا مضمون بہت ہی وسعت رکھتا ہے اور جتنا وسیع توحید کا مضمون ہے اس کا منفی پہلو یعنی شرک بھی اسی قدر وسعت رکھتا ہے اس لئے تمام منفی احتمالات سے متنبہ رہنا اور توحید کے ہر مختلف پہلو کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے چلے جانا یہ ہے تو حید۔صرف یہ تو حید نہیں کہ لا الہ الا اللہ اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں۔واقعہ یہ ہے کہ بھاری تعداد وہ موحدین جو آج دنیا میں موحد کہلاتے ہیں یعنی ایسے مذاہب سے وابستہ ہیں جو توحید پرست مذاہب ہیں ان کی بھاری اکثریت اپنے نفس کی خواہشات کی کسی نہ کسی رنگ میں عبادت کر رہی ہوتی ہے اور وہ وقت جب خدا کے بندے ظاہر ہوتے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ دوبارہ ایمان کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نمائندہ بنایا جاتا ہے وہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ دنیا کی اکثریت اس شرک میں مبتلا ہو چکی ہوتی ہے۔اس لئے وہ لوگ انکار کرتے ہیں۔وہ دیکھ ہی نہیں سکتے اس موحد کامل کو وہ اس کی بات کو سنتے بھی ہیں تو سمجھ نہیں سکتے اور ان کے دل اس روحانی دل سے دور ہو چکے ہوتے ہیں جو