خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 82
خطبات طاہر جلد ۶ 82 88 خطبہ جمعہ ۳۰ / جنوری ۱۹۸۷ء خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے ناروے کا ذکر بھی کیا تھا کہ وہاں ان کو بعض بیعتوں کی خوشخبری دینے کے لئے میں نے فون کیا تو انہوں نے اس پر خوشخبری دی کہ دو اور اللہ کے فضل کے ساتھ پھل لگے ہیں ابھی۔اس میں میں نے غلطی سے یہ بتایا تھا کہ جو بیعتیں تھیں ان میں دوعرب تھے۔وہ سیرالیونیز (Seralionies) سے تھے دو ، عرب نہیں تھے۔کیونکہ بعد میں جمعہ کے بعد دوسرے دن جب میں نے رپورٹ تفصیل سے پڑھی تو وہاں لکھا ہوا تھا کہ یہ دوسیرالیونیز تھے۔چونکہ ایک غلطی سے ایک ایسی بات کہی گئی جو درست نہیں تھی اس لئے ضروری ہے کہ خطبہ میں اس کو ریکارڈ کیا جائے کہ اصل صورتحال یہ تھی۔ویسے تو عرب وہاں خدا کے فضل سے ہوتے رہتے ہیں۔اس لحاظ سے ناروے کا کام بہت نمایاں ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ۔مگر یہ دو جو بیعتیں تھیں، تین میں سے دو عرب نہیں تھے بلکہ سیرالیو نیز تھے۔ایک دو جنازے ایسے تھے جو میں سمجھتا تھا جمعہ کے ساتھ ہی ہو جاتے۔مگر بہر حال وہ انشاء اللہ رات کو درس کے بعد عشاء کے بعد ہو جائیں گے۔نمازیں جمع کرنے کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آجکل عصر کا وقت جب شروع ہوتا ہے خطبہ اس کے بعد ختم ہوتا ہے۔اس لئے جن علاقوں میں شمالی علاقوں میں یہ غیر معمولی دن اور رات کے اوقات ہیں ان میں اس وقت تک ہم نماز جمع کر سکتے ہیں جب خدا کے کاموں میں مصروف ہوتے ہوئے پہلی نماز دوسرے نماز کے وقت میں داخل ہو چکی ہو۔تو اس پر ہماری نظر ہے۔اسے خواہ مخواہ کوئی لا علمی میں اس کو رسم نہ بنالے کہ شاید اپنی مرضی سے جب چاہو جمع کر لو جب چاہو نہ کرو۔اس وجہ سے میں یہ کھول رہا ہوں مضمون کہ ہم بالعموم پونے تین تک یا بعض دفعہ اڑھائی بجے تک خطبہ ختم کرتے ہیں آج کل تو اس سے پہلے عصر کا نماز کا وقت شروع ہو چکا ہوتا ہے دن چھوٹے ہونے کی وجہ سے۔جب ایسا وقت آئے گا کہ عصر کی نمازا الگ پڑھی جاسکتی ہو تو اس وقت انشاء اللہ تعالیٰ پھر یہ سلسلہ بند کر دیا جائے گا۔