خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 840
خطبات طاہر جلد ۶ 840 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۸۷ء باتیں کی جاتی ہیں۔جب تک ان سے صحت کی باتیں نہ کریں کہ ہاں ! آپ اچھے ہونے والے ہیں یا بے قرار ہے کوئی کسی تکلیف کی وجہ سے اور رات کا وقت ہے اسے کہا جاتا ہے کہ دیکھو! صبح تو آئے گی اور جلد ہی آنے والی ہے۔صبح کا ذکر کیوں کیا جاتا ہے؟ اس لئے کہ صبح ایک یقینی چیز ہے اور صبح کے خیال سے طبیعت میں بشاشت پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح صحت کے ساتھ صبح کا ذکر بھی چلتا ہے رات کے مریضوں سے کیونکہ ایک یقینی حالت سے دوسری یقینی حالت کی طرف بھی توجہ مائل ہوتی ہے۔اس لئے صبر کا صبر کے اندر اپنے اچھے انجام پر یقین کا مضمون بھی داخل ہے۔فَاصْبِرُ یقیناً صبر کر نتیجہ کیا نکلا؟ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ اس مضمون کو خدا نے خود ظاہر فرما دیا۔صبر اس لئے کر کہ خدا کا وعدہ ضرور پورا ہوگا اگر خدا کے وعدہ پورے ہونے میں کوئی شک ہوتا تو پھر تو یہ صبر کی تلقین نہ کی جاتی کیونکہ پھر یہ بڑا ظلم ہے۔کسی کو جھوٹے وعدے دینا اور جھوٹی تسلیاں دینا یہ خدا کی شان کے خلاف ہے اور ایک شریف النفس انسان کی شان کے بھی خلاف ہے۔پس فرمایا کہ ہم جو تجھے صبر کی تلقین کرتے ہیں تو بے جا تلقین نہیں کرتے بے مقصد تلقین نہیں کرتے۔خدا کا وعدہ چونکہ لا زما پورا ہوگا اس لئے مبر کر اور ساتھ ہی صبر کے ساتھ خدا کے وعدہ پورا ہونے کا مضمون بھی متعلق ہے۔جوصبر کے ساتھ انتظار کرتے ہیں ان کے حق میں وعدہ آیا کرتا ہے اور جو صبر چھوڑ دیتے ہیں ان کے لئے وہ وعدہ نہیں پورا ہوا کرتا۔اس لئے یہ دونوں مضمون آپس میں گہرے بندھے ہوئے ہیں جن کا اٹوٹ تعلق ہے، ٹوٹ ہی نہیں سکتا کسی طرح۔صبر کے اس مضمون میں اور بھی بہت سی چیزیں داخل ہیں لیکن اس وقت اس تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے پہلے بھی بعض مواقع پر صبر کے متعلق میں تفصیلاً بیان کر چکا ہوں۔ایک بات بہر حال ذہن نشین رکھنی ضروری ہے ہر دعوت الی اللہ کرنے والے کے لئے کہ صبر کے بغیر نہ دعوت الی اللہ ہوسکتی ہے نہ صبر کے بغیر فتح کا دن دیکھنا نصیب ہوسکتا ہے۔صبر کے بغیر انسان اپنی اچھی باتوں پر قائم بھی نہیں رہ سکتا۔صبر کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ انسان مایوسی سے بچ سکے اور اپنی نیکیوں پر استقلال اختیار کر سکے۔اس لئے صبر بہت ہی ضروری ہے لیکن اس یقین کے ساتھ صبر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ بالآخر خدا تعالیٰ لازما فتح کا دن طلوع فرمائے گا۔اس کے بعد فرمایا و اسْتَغْفِرْ لِذَنبِك اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا رہ یا استغفار کرتا تو