خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 835
خطبات طاہر جلد ۶ 835 خطبه جمعه ۴ /دسمبر ۱۹۸۷ء ہیں جو اسیری کے دکھ سہہ رہے ہیں ان میں مجرم بھی بہت ہوں گے کچھ معصوم بھی ہیں بلکہ بعض ممالک میں تو لاکھوں معصوم بندے ہیں خدا کے ان بیچاروں کے لئے چونکہ وہ خدا کی خاطر اسیری نہیں اجر کا بھی کوئی وعدہ نہیں بڑے ہی مظلوم لوگ ہیں۔جماعت احمدیہ کو اگر ساری دنیا میں اس طرف توجہ پیدا ہو اور جیل خانوں میں جولوگ جاسکتے ہیں نظام کے تابع جو پروگرام بنائے جاسکتے ہیں وہاں اسیروں سے رابطے پیدا کئے جائیں، ان کے دکھ معلوم کئے جائیں۔میں جانتا ہوں کہ سمندر میں قطرے کے برابر کوشش ہو گی مگر ہمارے قطرے کے دائرے میں ہمارے مسائل تو حل ہو جائیں گے، جو ہمارا مقصد ہے وہ تو پورا ہو جائے گا۔ایک اور مقصد بھی پورا ہوگا اس سے ہمارے اندر ایک جلا پیدا ہوگی۔ہماری انسانی قدریں پہلے سے زیادہ چمک اٹھیں گی لیکن نیت یہ رکھیں کہ ہم اسیروں سے براہ راست تعلق قائم کریں تا کہ ان فرشتوں کی نظر میں آجائیں جو اسیری کے کاموں پر مامور ہیں اور جس طرح ہم نے عمدا دنیا میں مشاہدہ کیا ہے کہ جس خدمت کے کام پر کوئی خاص تعلق سے اپنے دائرہ خدمت کو وسیع کرتا ہے خدا کے فرشتوں کالا زما اس سے تعلق ہوتا ہے اور اس کے حق میں معجزے دکھاتے ہیں۔اس طرح خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے جو اس کام پر مامور ہیں ہمارے ان بھائیوں کے لئے اعجاز دکھائیں اور اس حد تک آپ اس مضمون کو آگے بڑھائیں کہ شفاعت کے مضمون میں یہ مضمون داخل ہو جائے اور آسمان پر خدا کے فرشتے اس کے حضور شفاعت کریں ان راہ مولا میں اسیری کے دکھ اٹھانے والوں کے اب دن آسان فرما دے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔آج کچھ بعض مرحومین کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔پہلے تو ہمارے وکیل اعلیٰ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کی بیگم کی والدہ یعنی ان کی ساس مکرمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ عبدالجبار خان صاحب مرحوم کی اچانک وفات کی اطلاع ملی ہے۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پھر مکر مہ محمودہ بیگم صاحبہ مرحومہ موصیبہ یہ بھی ہمارے سلسلے کے ایک کارکن سید منصور احمد بشیر کی والد ہتھیں ، ان کی وفات کی اطلاع ملی ہے۔اس کے ساتھ ہی اسی خاندان میں ایک دوسری وفات کا سانحہ بھی ہوا ہے یعنی مکرم اقبال احمد صاحب بھٹی یہ سید منصور احمد بشیر کے بہنوئی تھے تو اوپر تلے یہ