خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 834 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 834

خطبات طاہر جلد ۶ 834 خطبه جمعه ۴ /دسمبر ۱۹۸۷ء میں اگر کسی خاص وجود کو پیش نظر رکھیں اپنی نیکیوں میں کسی خاص وجود کو پیش نظر رکھیں دعاؤں میں تو خیر ہو بھی سکتا ہے میں نیکیوں کی بات کرنی چاہتا تھا۔نیکیاں وہ ہم کر رہے ہوں گے یہ ممکن ہے کہ اس کا فائدہ ان کو دوسرے کو پہنچ جائے۔یہ ایک اور حکمت کا راز ہمیں اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہواس لئے بعض دفعہ ہر حالت میں نہیں مگر بعض دفعہ بعض نیکیوں کا ثواب مرحومین کو پہنتا ہے عمل کسی اور کا ہے اور ثواب کسی اور کو پہنچ رہا ہے۔اس پہلو پر غور کرتے ہوئے مجھے اسیرانِ راہ مولا کا خیال آیا۔بہت دعائیں کی ہیں ان کے لئے ،ساری جماعت دعائیں کر رہی ہے اور بہت دلوں میں درد ہے اور ساری دنیا کی جماعت کے دلوں میں درد ہے اور ابھی تک ان کا ابتلا لمبا ہو رہا ہے۔مجھے اس شفاعت کے مضمون پر غور کرتے ہوئے خیال آیا کہ کیوں نہ ان کی خاطر ہم ہر دوسرے اسیر سے تعلق رکھنا شروع کر دیں۔اسیران سے خواہ وہ راہ مولا کے اسیر ہوں یا کسی قسم کے اسیر ہوں، اسیران کی بہبود کے لئے کچھ نہ کچھ کریں تا کہ خدا کے فرشتوں سے ہمارا تعلق قائم ہو جائے۔ان فرشتوں سے تعلق قائم ہو جائے جن کا اسیری کے مضمون پر مامور فرمایا گیا ہے، جو اسیروں کی رستگاری کا موجب بنا کرتے ہیں اور خدا کے ہاں جو مختلف قوانین جاری ہیں ان میں ایک یہ بھی قانون ہے کہ غلامی کو دور کرنے کے لئے خدا کے بعض نظام جاری ہیں وہ بعض دفعہ ہزاروں سال کی حرکت کے بعد مکمل ہوتا ہے ان کا دور اور بعض دفعہ چھوٹی حرکتوں میں ان کا دور مکمل ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی اپنی ذات میں بہت وسیع مضمون ہے۔بہر حال یہ تو قطعی بات ہے کہ اسیروں کی رستگاری کا جو نظام ہے وہ بھی ایک نظام ہے کوئی اتفاقی حادثات کا نتیجہ نہیں ہے اور اس میں خدا کے بعض فرشتے ملاء اعلیٰ پر مامور ہیں ان کے تابع پر ان گنت فرشتے دوسرے کام کر رہے ہیں۔تو ہم ان کے لئے دعا ئیں تو کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارا ان فرشتوں سے واقعۂ تعلق ہے؟ ہم تو ان سے دعا ئیں اپنی محبت کے نتیجے میں کر رہے ہیں جو ہر احمدی کو دوسرے احمدی سے ہو چکی ہے اور یہ محبت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ذی الــقــربـی' کا مضمون اس میں آجاتا ہے یعنی ہماری محبت اسی نوع کی ہو گئی ہے جیسے ماں کو بچے سے محبت ہوتی ہے۔اس لئے ایک نفسانی تمنا جو ہے وہ بھی تو داخل ہوگئی۔ہم مجبور ہیں اختیار ہی کوئی نہیں ہمیں ہم ان کے لئے غم کرنے پر، ان کے لئے دعائیں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں لیکن خدا کے کتنے اور بندے ہیں لکھوکھا بندے