خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 833
خطبات طاہر جلد ۶ 833 خطبہ جمعہ ۲ دسمبر ۱۹۸۷ء رحم کسی اور وجہ سے نازل ہورہا ہوتا ہے۔بعض دفعہ وہ مثلاً ایک خاص مضمون کے پیش نظر قبول ہوتی ہے، صرف شفاعت میں ہی نہیں دعا میں بھی یہ مضمون چل رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں مولانا محمد علی صاحب مرحوم و مغفور کو طاعون کا نہ صرف شبہ ہوا بلکہ ان کو یقین تھا کیونکہ علامتیں ساری طاعون والی تھیں۔گلٹی بھی نکل آئی بخار بھی اسی طرح کا تیز اور بظاہر ڈاکٹروں نے مایوسی کا اظہار کیا۔وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جو دعا کی ہے اس میں اس اعجازی نشان کو پیش نظر رکھ کے دعا کی ہے جو آپ کو عطا کیا گیا تھا۔فرمایا اس طرح تو شماتة الاعداء ہوگی۔میرا ایک قریبی مجھ سے تعلق رکھنے والا یعنی صحابی کی حیثیت ہم یہ کہہ سکتے ہیں حضرت مولوی محمد علی صاحب رضی اللہ عنہ اللہ بہتر جانتا ہے ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا یہ تو اس کا کام ہے ہمارا کام نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب رہے ، بڑی خدمت کی۔اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک تعلق بھی تھا لیکن آپ نے دعا کے وقت اس تعلق کی بات نہیں کی ، آپ نے دعا کے وقت ایک اور مضمون کا حوالہ دیا ہے جس میں خدا نے آپ کو ایک اعجازی نشان عطا فر مایا اور آپ کے قرب وجوار میں رہنے والوں کے متعلق وعدہ فرمایا کہ ان کو میں بچاؤں گا۔جب اس حوالے سے دعا کی تو اچانک بغیر بظاہر کسی ظاہری وجہ کے مولوی محمد علی صاحب اچھے ہو گئے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۶۵) اسی طرح ہر مضمون میں ” “ کی انگلی بعض دفعہ کسی اور انسان کی طرف اٹھ رہی ہوتی ہے بعض دفعہ کسی اور مضمون کی طرف اٹھ رہی ہوتی ہے لیکن بہر حال شفاعت کا مضمون ان کے لئے حرکت میں آتا ہے جن کا تعلق یا تو براہ راست خدا کے فرشتوں سے ایسا ہو کہ وہ تعلق غیر معمولی ہو جائے اور اس کے اندر قانون قدرت سے ایک الگ بات پیدا ہو جائے ، عام قانون سے ایک الگ بات پیدا ہو جائے یا اس سے محبت کرنے والا کوئی ایسا ہو، اس سے غیر معمولی تعلق رکھنے والا ایسا ہو جو خودان لوگوں میں شامل ہو جن کے اوپر خاص خدا کی رضا اور رحمت کی نظر پڑتی ہے۔ایسے معاملات اگر ہوں تو شفاعت آج بھی ہوسکتی ہے۔اس لئے چونکہ یہ مضمون ہمیں سمجھ آگیا کہ شفاعت بعض دفعہ جس وجود کے لئے ہو رہی ہے اس کی خاطر نہیں ہوتی بلکہ کسی اور کی خاطر ہو رہی ہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی دعاؤں