خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 831 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 831

خطبات طاہر جلد ۶ 831 خطبہ جمعہ ۴ ردسمبر ۱۹۸۷ء نیکیوں میں جو ہم آہنگی ہے وہ کس حد تک اللہ ہے اور کس حد تک کسی اور غرض کے لئے اور چونکہ فرشتے خدا کے مقابل کے وجود نہیں ہیں اس لئے وہی نیکیاں انسان کے کام آسکتی ہیں جو اللہ ہوں اور ان کو اللہ بہتر جانتا ہے۔اس لئے شفاعت سے پہلے یہ شرط لگائی گئی کہ کون ہے وہ ملک جو آسمانوں پر ہیں ان کی شفاعت کام آ سکے مگر اس صورت میں کہ آنْ يَأْذَنَ اللهُ لِمَنْ يَشَاءُ کہ اللہ تعالیٰ اجازت دے اس کے لئے جسے چاہے۔اَنْ يَأْذَنَ اللهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضُی اس میں دو مفعول پیش نظر رہنے چاہئیں۔ایک مراد یہ ہو سکتی ہے کہ جن فرشتوں کو خدا چاہے اجازت دیتا ہے ہر فرشتے کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ سفارش کر سکے اور جن فرشتوں کو خاص رضا خدا کی حاصل ہوتی ہے ان کو اجازت دیتا ہے اور دوسرا “ کا تعلق ان بندوں سے ہے جن کے لئے سفارش کی جاتی ہے۔تو فرمایا کہ جن بندوں کے متعلق خدا چاہتا ہے ان کو اجازت دیتا ہے ان کے لئے اجازت دیتا ہے یعنی مراد یہ ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لینا کہ تمہارا فرشتوں سے تعلق قائم ہو گیا تم خود مختار ہو گئے ہو خدا سے بے نیاز ہو گئے ہو۔خدا تعالیٰ کی کائنات میں کسی قسم کا کوئی شرک نہیں ہے کوئی بھی خدا کا شریک نہیں ہے کسی چیز میں۔اس لئے تم بھی خدا کے سوا کسی طاقت پر انحصار نہیں کر سکتے خواہ وہ کتنی عظیم الشان طاقت ہو۔فرشتوں کو جب شفاعت کی اجازت ملے گی اس وقت ملے گی جب خدا چاہے گا کسی بندے کے لئے کہ ہاں اس بندے کے لئے میں اجازت دیتا ہوں۔وَيَرْضُی اس میں رضا کا پہلو بھی شامل ہے۔تو معلوم یہ ہوا کہ رضائے الہی کی خاطر کام کرنے والوں کے لئے شفاعت کے دروازے کھلنے کا زیادہ امکان ہے اور جو رضائے الہی کے لئے کام نہیں کرتے ان کے لئے کم امکان ہے۔اب یہاں ایک اور مسئلہ بھی حل کرنا ضروری ہے بعض اوقات ایک شخص کے لئے شفاعت قبول ہو جاتی ہے شفاعت کی اجازت دی جاتی ہے اور وہ شخص اگر غیر معمولی طور پر شفا پا تا بڑا ہوتا ہے لیکن وہ نیک نہیں بنتایا اس شفاعت کا بظاہر حقدار دکھائی نہیں دیتا۔اس کا کیا حل ہے؟ اس کا حل یہ ہے کہ “ کا لفظ اس کے لئے استعمال ہی نہیں۔ایسے مواقع پر دراصل جس شخص کی خاطر وہ شفاعت کی جاتی ہے بعض دفعہ وہ اور ہوتا ہے اور جس کے حق میں وہ قبول ہوتی ہے وہ اور ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت نواب محمد علی خان کے بیٹے کی بیماری کے وقت جبکہ وہ ہاتھ سے نکل چکا تھا اور ڈاکٹروں کی رائے میں اس کا بچنا ناممکن تھا اس وقت شفاعت کی۔کس کے