خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 829 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 829

خطبات طاہر جلد ۶ 829 خطبہ جمعہ ۴ /دسمبر ۱۹۸۷ء مجھے تو بتا دیتا ہو تا میں تو ساری رات کھڑا اس کے لئے دعا کرتا رہا۔(اصحاب احمد جلد ہشتم صفحہ: ۷۶) یہ وہ ہے طبابت ، یہ وہ تعلق ہے مریض سے اس کی تکلیف کے نتیجے میں جس کے نتیجے میں لازما فرشتے ایسے وجود سے عاشقانہ تعلق رکھنے لگ جاتے ہیں اور پھر اس کی دعاؤں میں اعجاز پیدا ہو جاتا ہے اس کی شفا کی کوششوں میں اعجاز پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام طبیب نہیں تھے یعنی پیشہ کے لحاظ سے تو طبیب نہیں تھے لیکن بچپن سے جوانی ، جوانی سے بڑھاپے تک آپ شوق کے ساتھ غریبوں کی خدمت کی خاطر علاج فرمایا کرتے تھے اور جب بھی کوئی مریض ہو اس کے لئے آپ بے چین ہو جایا کرتے تھے۔آپ کی بے چینی خدا کے علم میں اس حد تک تھی کہ آپ کو اس معاملے میں شفاعت کی اجازت دی گئی اور دو مرتبہ واضح طور پر خدا تعالیٰ نے آپ کے ساتھ شفاعت کا تعلق اس معاملے میں قائم فرمایا اور خدا کے اذن سے جب آپ نے شفاعت کی ہے تو پھر جو مریض شفایاب ہوئے ہیں ان کے لئے دنیاوی علم کے لحاظ سے کوئی بچنے کی گنجائش نہیں تھی۔حضرت خلیفہ امسیح الاول کا بھی ایک تعلق تھا اور وہ تعلق بھی نظر آ رہا تھا لوگوں کو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی اپنے مریضوں سے ایک تعلق تھا اور وہ بھی لوگوں کو بظاہر نظر آرہا تھا مگر خدا بہتر جانتا تھا کہ کس کا تعلق کس نوع کا ہے کتنا گہرا ہے کتنا اس کی ذات میں پیوستہ ہو چکا ہے اس کی روح میں ڈوب چکا ہے اور اسی لئے درجہ بدرجہ ان سے سلوک ہوتا تھا۔یہ وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرشتوں کو بھی اور نبیوں کو بھی جب تک اجازت نہ دے وہ شفاعت نہیں کر سکتے کیونکہ ان کو خود نہیں پتا ہوتا کہ اس تعلق میں کتنی گہرائی ہے۔اپنے ساتھ تعلق کو تو انسان جان سکتا ہے ایک نبی بھی جان سکتا ہے اور ایک فرشتہ بھی جان سکتا ہے۔چنانچہ انبیاء بھی جب شفاعت کی کوشش کرتے ہیں بعض دفعہ اتنا جذبہ بڑھ جاتا ہے کہ بغیر اجازت کے غلطی سے لاعلمی میں عمداً نہیں ان کے منہ سے لفظ شفاعت نکل جاتا ہے اور خدا تعالیٰ پھر اس کی درستگی بھی فرما دیتا ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کو اس بندے سے کتنا تعلق تھا جس کے لئے دعا کی جارہی ہے اور دعا قبول نہ ہونے کی شکل میں پھر شفاعت کی طرف رجحان پیدا ہوا ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ ان کا اپنا اس معاملے میں خدا کی نظر میں کیا منصب ہے اور پھر یہ نہیں جانتے کہ جس بندے کے لئے شفاعت کی جا رہی ہے خدا کی نظر میں وہ اس شفاعت کا اہل ہے یا نہیں ہے۔