خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 828 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 828

خطبات طاہر جلد ۶ 828 خطبہ جمعہ ۲ دسمبر ۱۹۸۷ء اس لئے یہ بہت ہی اہم بات ہے۔ہاں اضطرار کا مضمون اس کے علاوہ ہے بعض اوقات اضطراری حالت میں دعائیں سنی جاتی ہیں اس وقت اس کی بحث نہیں چل رہی۔یہاں فرشتوں کا مضمون بیان ہو رہا ہے۔خدا تو مالک ہے خدا جس کی چاہے دعا سن لے ، جس کو چاہے کسی مصیبت سے نجات بخش دے خواہ اس کا تعلق کسی فرشتے سے ہو یا نہ ہو خدا اس سے آزاد ہے لیکن فرشتے آزاد نہیں ہیں۔وہ مامور ہیں ، وہ مسخر ہیں ایک کام کے اوپر ان کو تو خدا کا قانون جس حد تک اجازت دے گا اسی حد تک وہ تعلق قائم کریں گے۔اس لئے اگر فرشتوں سے تعلق قائم کرنا ہے تو ان کے ہم آہنگ آپ کو ہونا پڑے گا اور جس جس مضمون میں آپ ان سے ہم آہنگ ہوتے چلے جائیں گے ، جس جس صفت حسنہ میں آپ ان سے ہم آہنگ ہوتے چلے جائیں گے اس مضمون میں آپ کو خدا تعالیٰ غیر معمولی قوتیں عطا کرنی شروع کرے گا۔شفا کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا یہی مضمون ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ نے جب معاملات کئے ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسی مضمون کے تابع وہ معاملات کئے گئے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی مثال دی تھی ان کا بھی شفا سے ایک گہرا تعلق تھا جیسا کہ میں نے بیان کیا۔وہ کس طرح اپنے مریضوں سے تعلق رکھتے تھے اس کی ایک مثال میں آپ کو بتا تا ہوں۔ا یک دفعہ مجھے ان کا یاد نہیں نام پوری طرح اس لئے نام کو چھوڑئیے۔ایک صحابی ( مکرم چوہدری حاکم دین صاحب ) روایت کرتے ہیں کہ میرے گھر میں زچگی تھی یعنی وضع حمل کا وقت تھا اور میری بیوی شدید تکلیف میں تھی اور مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں اس تکلیف سے مر نہ جائے میں حضرت خلیفہ اسیح الاول کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اس کے لئے دوا بھی اور دعا بھی کریں اور اس کے بعد گھر گیا تو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر اعجازی طور پر بچہ عطا فرمایا اور بیوی کی ساری تکلیف رفع ہوگئی جس پیچیدگی کا ڈر تھا وہ پیچیدگی بھی ختم ہوگئی۔دوسرے دن صبح کے لئے وہ نماز کے لئے گزر رہے تھے حضرت خلیفہ اسیح کے دروازے کے سامنے سے تو آپ نے ان کو آواز دی باہر نکلے پہچانا اور کہا کہ کیا حال ہے بیوی کا انہوں نے کہا کہ خدا کے فضل سے میں واپس گیا ہوں دیکھتے دیکھتے بیوی ٹھیک ہو گئی اور اعجازی نشان ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی دعا کا۔آپ نے فرمایا