خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 827 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 827

خطبات طاہر جلد ۶ 827 خطبہ جمعہ ۴ ردسمبر ۱۹۸۷ء گواہی وہ خدا کے حضور یہ پیش کرتے ہیں کہ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً اے ہمارے رب! تیری رحمت تو ہم جانتے ہیں کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہم سے کہ ہر چیز پر حاوی ہے۔و علما اور ہر کائنات کے ذرے ذرے کا علم بھی تجھ کو ہے یعنی ہم تجھے خبر نہیں دے رہے کوئی تو بہتر جانتا ہے ہم سے فَاغْفِرُ لِلَّذِينَ تَابُوا۔اس لئے ہم عرض کرتے ہیں کہ جو لوگ تو بہ کرنے والے ہیں ان سے مغفرت کا سلوک فرما وَاتَّبَعُوا سَبیلک اور وہ لوگ جو تیری راہ کی پیروی کرتے ہیں تیری راہ کے پیچھے لگ جاتے ہیں ان پر رحم فرما ان سے مغفرت کا سلوک فرما وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ اور ان کو جیم کے عذاب سے بچا۔اسی طرح یہ دعا آگے ان کے لئے جاری رہتی ہے۔تو سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ میں اگر فرشتوں جیسی بات نہ پیدا ہو سکے وہ مزاج نہ ہو سکے تو پھر عظیم الشان توقعات اپنی دعا کے لئے یا اس بات کی توقعات کہ فرشتے آپ کے لئے دعا کریں گے یہ فرضی تو قعات ہیں۔دوسرا یہ ہے کہ اگر ان معاملات میں آپ فرشتوں کے مقاصد سے ٹکرانے والی باتیں کر رہے ہوں تو یہ وہم دل سے نکال دیں کہ ان مواقع پر فرشتوں کی مدد اور نصرت آپ کو حاصل ہوگی جب آپ ضرورت مند ہو جائیں گے۔مثلاً ایک شخص دوسروں کے مال کھانے سے پر ہیز نہیں کرتا ایک شخص دوسروں پر ظلم کرنے سے باز نہیں آتا۔حرص کی نگاہ کو آزاد چھوڑ دیتا ہے اور ہر شخص کا مال غصب کرنے کی تمنا دل میں رکھتا ہے۔جب وہ خود پکڑا جاتا ہے جب وہ خود ایک ایسے ابتلا میں پڑتا ہے جس کا اس مضمون سے تعلق ہے تو پھر وہ یہ توقع رکھے کہ اس کے لئے دعائیں قبول ہوں گی یا اس کے لئے شفاعت کا مضمون جاری کیا جائے گا بہت بڑی حماقت ہے۔اسی لئے فرشتوں نے اپنی دعا میں تابوا کا لفظ پہلے رکھا ہے۔فرشتوں سے تعلق تو بہ کو چاہتا ہے اور تو بہ کے مضمون میں کوئی کمی تو بہ مراد نہیں ہے یہاں اس وقت۔مراد یہ ہے کہ ہر گناہ میں گناہ سے تعلق تو ڑ کر فرشتوں سے تعلق قائم کرنے کے لئے بیچ میں تو بہ کا دروازہ حائل ہے۔اس دروازے سے جب آپ گزرتے ہیں اور دوسرے مضمون میں داخل ہو جاتے ہیں دوسرے دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں پھر وہاں سے آپ کا فرشتوں سے تعلق شروع ہوتا ہے۔