خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 822
خطبات طاہر جلد ۶ 822 خطبہ جمعہ ۴ /دسمبر ۱۹۸۷ء پیدا ہوتا ہے کہ نہیں۔اگر اس تعلق سے یہ مراد ہو تو ہر انسان اپنی احتیاج کے وقت کوئی نہ کوئی کام کرتا ہے پھر تو ہر انسان کا خواہ وہ کافر ہو خواہ مومن ہو خواہ نیک ہو خواہ بد ہو تمام فرشتوں سے تعلق قائم ہو جانا چاہئے اور ان کے سارے مسائل حل ہو جانے چاہئیں۔اس لئے یہ مراد نہیں ہے مراد یہ ہے کہ وہ حرکت ، وہ کام وہ عمل جو فرشتوں کے مزاج کے مطابق کیا جائے اور اسی طرح کی اپنے اندر حصلتیں پیدا کی جائیں جو ان فرشتوں میں ہیں جو کسی نیکی پر مامور ہیں اس کے نتیجے میں تعلق پیدا ہوتا ہے۔ایک ماں اپنے بچے کے لئے قربانی کر رہی ہے فرشتہ اس نظام سے بھی تعلق رکھ رہا ہے اس پر بھی کوئی فرشتہ مامور ہے جس کا بچے کی اس حاجت کے ساتھ تعلق ہے جو ماں پوری کر رہی ہے لیکن اس ماں کے لئے اس فرشتے کے دل میں اگر دل کا لفظ فرشتوں کے لئے استعمال کیا جائے کوئی بھی حرکت پیدا نہیں ہوگی۔لیکن ایک ماں اگر غیر کے بچے کے لئے ویسا ہی جذبہ دکھائے جیسا اپنے بچے کی تکلیف کے وقت دکھا رہی تھی تو پھر فرشتے کے مزاج کے مطابق اس کا مزاج بن گیا۔یہ مراد ہے ہم آہنگی سے کیونکہ فرشتے کے تو کوئی بچے نہیں ہیں۔وہ فرشتے جو بچوں کی بعض ضروریات پر مامور ہیں اور ہر قسم کے انسان کی ہر عمر کی ضروریات مختلف ہوتی چلی جاتی ہیں۔اس لئے نظام کا ئنات بہت ہی وسیع ہے اور بہت ہی باریک تر ہے، ان گنت فرشتے ہیں جو درجہ بدرجہ مختلف مقامات پر فائز، مختلف آسمانوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف دائرہ کار میں حرکت کرنے والے ہیں ان کی طاقتیں بھی مختلف ہیں قرآن کریم سے اس مضمون پر بڑی روشنی پڑتی ہے۔بہر حال اب ایک فرشتے کی تو کوئی اولاد نہیں ہے اس کو خدا نے جس کام پر مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے مثلاً جیسا کہ میں نے مثال دی تھی بعض بچوں کی کوئی ضرورت ہے اس کا تعلق کسی فرشتے سے ہے مثلاً اس کے لئے دانت کے زمانے کی تکلیفوں کو دور کرنا اور اس میں آسانی پیدا کرنا۔اسی قسم کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی۔کوئی بھی ضرورت ہو غیر معین آپ سمجھ لیں اس میں جب آپ اپنی ذات کی خاطر وہ ضرورت پوری کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں اس فرشتے سے تعلق قائم نہیں ہوگا کیونکہ فرشتہ جب آپ کی ضرورت پوری کرتا ہے تو اپنی ذات کی خاطر نہیں کرتا۔خدا کی خاطر کرتا ہے جس نے اس کو مامور فرمایا ہے اس لئے جب آپ ایسے انسان کو ایسے ضرورت مند کو محبت اور پیار کی نظر سے دیکھتے ہیں جس کا براہِ راست آپ سے رشتہ نہیں ہے اور اس کی اس ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کرتے