خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 818
خطبات طاہر جلد ۶ 818 خطبہ جمعہ ۴ /دسمبر ۱۹۸۷ء تابع کارفرماہے اور یہ کائنات از خود بغیر کسی نگران اور بغیر کسی طاقت دینے والے کے خود بخود نہیں چل رہی۔چنانچہ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔الَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرُ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ) (المؤمن :) یعنی خدا کے ایسے فرشتے ہیں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔وَمَنْ حَوْلَهُ اور عرش کے اردگرد جو بھی اس کا ماحول ہے جو بھی عرش سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں ان سب کو اٹھائے ہوئے ہیں۔يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ اپنے رب کی تسبیح کرتے ہیں اس کی حمد کے ساتھ۔اس آیت میں جو پہلا حصہ ہے يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذ بالله من ذالک خدا تعالیٰ کسی تخت پر بیٹھا ہوا ہے جیسا کہ بعض دفعہ جاہلانہ تصور میں یہ ایسی تصویر پیش کی جاتی ہے کہ عرش پہ بیٹھا ہوا ہے اور فرشتوں نے اس کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ تو ساری کائنات کو اٹھانے والا اور اس کا پیدا کرنے والا اسی کی طاقت سے ہر چیز قائم ہے فرشتے اس کی طاقت سے قائم ہیں۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا نعوذ باللہ من ذالک کسی جسمانی نوعیت کے عرش پر یا کسی بھی نوعیت کے عرش پر اس طرح بیٹھا ہو کہ فرشتے اگر اس تخت کو چھوڑ دیں تو وہ نیچے گر پڑے۔اوّل تو اونچا اور نیچے کا جو تصور ہے حقیقی اس میں یہ بات کسی طرح بھی بھتی نہیں لیکن اس بات کو چھوڑ بھی دیں اونچے اور نیچے کا جو بھی تصور ہو خدا کا عرش اٹھانے کا کچھ اور مطلب ہے، یہ مطلب بہر حال نہیں کہ خدا کا انحصار، خدا کی شان کا انحصار کسی دوسری ذات پر ہے۔اس لئے عرش سے مراد یہاں جیسا کہ عرش عظیم کے لفظ سے بھی معلوم ہوتا ہے خدا کی کائنات ہے خدا تعالیٰ نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے من حیث المجموع وہ ساری کی ساری خدا کی کائنات عرش کے لفظ کے تابع ہے۔يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام کائنات عظیم الشان اور لامتناہی جو تم دیکھ رہے ہو یہ تمام کا تمام خدا کے مامور کردہ فرشتے چلا رہے ہیں از خود یہ نظام نہیں چل رہا۔جس پہلو سے بھی تم دیکھو، جس بار یک نظر