خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 807
خطبات طاہر جلد 1 807 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۷ء کے کان کے طور پر اس کو تسلیم نہیں کر سکتے بلکہ اپنی طرف سے یہ دفاع پیش کیا کہ ہاں ہے تو کان لیکن کان بیچارے کا کیا قصور وہ تو اس زبان کا قصور ہے جس نے پاگلوں والی جھوٹی لغو باتیں اس تک پہنچائی ہیں۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسی باتیں کرنے والے دو قسم کے ہو سکتے ہیں۔ میں حسن ظنی الله رکھتا ہوں لجنہ پر اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنی طرف سے میرا دفاع کیا ہے، اپنی طرف سے مجھے معذور قرار دیا ہے لیکن منافق بھی تو اسی طرح حملے کرتے ہیں ۔ آنحضرت صلی رت علی کا اعتماد اٹھانے کے لئے بھی اسی قسم کی باتیں کی گئی تھیں اور وہ لازما منافقین تھے۔ اب بھی معاشرے میں جب خلیفہ وقت پر حملہ کیا جاتا ہے یا پہلے جب بھی کیا گیا ہمیشہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ اس کے اوپر ایک الزام کو تسلیم کر کے اس کی ایک وجہ جواز بیان کی جاتی ہے۔ فلاں صاحب جو ہیں وہ تو فلاں کی باتوں میں آگئے۔ قادیان میں مجھے یاد ہے بچپن میں بڑے بڑے فتنے پیدا ہوئے اور فتنہ پردازوں نے آغاز ہمیشہ نظارت امور عامہ پر یا نظارت اصلاح و ارشاد پر یا نظارت تعلیم پر حملے کے ذریعے کیا اور کہا کہ خلیفہ وقت کو تو پتا ہی نہیں اس کے سامنے جھوٹی فائلیں پیش کی گئیں یا قضاء پر حملہ کیا اور کہا کہ قضا نے یہ دیکھو کتنا ظلم کیا ہے کہ خلیفہ وقت کے سامنے غلط معاملات پیش کر کے ان سے غلط فیصلے لے لئے۔ تو قرآن کریم نے تو ہمیشہ کے لئے یہ بات پیش کر کے آپ کی راہنمائی فرمادی تھی آپ کی آنکھیں کھول دی تھیں آپ کے کان کھول دیئے تھے بتا دیا تھا کہ اس طرح حملے ہوا کرتے ہیں ان حملوں سے باخبر رہو اور جو تمہارا منصب نہیں ہے اس منصب سے ہٹ کر تم نے کوئی بات نہیں سننی نہ کوئی بات کرنی ہے۔ چنانچہ اگر آپ منصب میں رہیں اور اپنے دائرے میں رہیں تو پھر کوئی فتور پیدا نہیں ہو سکتا جو تفاوت کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اب اس معاملے میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں خلیفہ نے فلاں کی بات سن لی ۔ مولوی ابو العطاء صاحب مرحوم کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس کی بات سن لی ، میر داؤد کی بات سن لی ، فلاں کی سن لی ، فلاں کی سن لی یا ناظر امور عامہ سید ولی اللہ شاہ کی بات سن لی یا قاضی کی بات سن لی ۔ تو سننے والے کا فرض تھا اس کا فرض تھا کہ اگر یہ بات ہے تو میں کون ہوں ، مجھے تم کیوں بتارہے ہو؟ میرا یہ منصب نہیں ہے کہ میں قضاء پر یا نظارت اصلاح و ارشاد پر یا کسی