خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 798 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 798

خطبات طاہر جلد ۶ 798 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء لغات میں مقابلہ کے دکھائی دیں گے تو وہ اس پر پوری طرح صادق نہیں آتے۔یہ باب مفاعلہ سے ہے تقابل اور اور تفاوت بھی باب مفاعلہ ہے اور اس کا مادہ فوت ہے۔فوت ہونا آپ سب جانتے ہیں موت کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔فات کا جو اصل عربی معنی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی چیز ہاتھ سے کھوئی جائے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اپنے مقام سے ہٹ جائے ، اپنے منصب سے ہٹ جائے۔پس فات کے لفظ کے اندر اس مسئلے کا حل ہے۔وہ مقابلہ جس کا تفاوت میں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے فلسفہ حیات سے ہٹ کر مقابلہ، اپنے منصب سے ہٹ کر مقابلہ۔جن چیزوں کی خاطر کسی چیز کو پیدا کیا گیا ہے اگر اس اصول کو چھوڑ کر اپنی راہ سے ہٹ کر کسی اور کی راہ میں کوئی چیز دخل دیتی ہے اور وہ مقابلہ ہوتا ہے اس کے اوپر لفظ تفاوت صادق آتا ہے۔پس تفاوت کا معنی خالی مقابلہ کرنا بالکل غلط ہے۔تفاوت کا معنی ہے وہ مقابلہ جو بے محل ہو جس چیز کی خاطر کسی چیز کو پیدا کیا گیا ہے اس سے ہٹ کر جب وہ کسی دوسری چیز سے ٹکراتی ہے اس کو تفاوت کہتے ہیں۔ان معنوں میں آپ ہر مشین کے کل پرزوں پر غور کریں جب بھی کوئی کل پرزہ اپنے دائرے سے ہٹ کر کسی دوسرے دائرے میں دخل اندازی شروع کرتا ہے وہیں فتور پیدا ہو جاتا ہے۔تو فرمایا فتور یعنی فساد کی جڑ اپنے اپنے منصب سے ہٹ کر کسی دوسرے کے منصب میں دخل اندازی ہے اور چونکہ خدا کی ساری کائنات میں کہیں کوئی تفاوت نہیں دیکھو گے اس لئے تمہیں کہیں فتور بھی نظر نہیں آئے گا۔فتور اس حادثاتی موت کو کہتے ہیں یعنی اگر ہم کائنات کی اصطلاح میں بات کریں تو اسے حادثاتی موت قرار دیا جا سکتا ہے۔چنانچہ تفاوت کے لفظ میں یہ مزید حسن قابل غور ہے کہ ایک فوت کا دوسرے فوت سے مقابلہ۔فات اس چیز پر اطلاق پاتا ہے جو اپنی جگہ سے ہٹ جائے وہ جب ٹکراتی ہے کسی ایسی چیز سے جو خود اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی ہو تو اس کو تفاوت کہیں گے اور اگر کوئی چیز ہٹ کر کسی ایسی چیز سے ٹکراتی ہے جو اپنے مقام سے علی نہیں ہے، اپنے دائرے میں ہی موجود رہتی ہے تو وہ ٹکرانے والی چیز ناکام اور نامراد ہو جائے گی اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔اس کو تفاوت نہیں پھر کہیں گے۔اس کو ایک ایسا حادثہ کہتے ہیں جس طرح کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ مضمون باندھا گیا ہے کہ بعض اہل دنیا جب سماء الدنیا میں دخل دینے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے لئے تفاوت کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔فرمایا ایک ناجائز کوشش ہے جس کا ان کو حق نہیں ہے۔اس کے نتیجے