خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 796 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 796

خطبات طاہر جلد ۶ 796 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر اسی بنا پر قادر ہے کہ تمام ملکیتوں کی باگ ڈور آخری صورت میں اس کے ہاتھ میں ہے وہی ذات ہے جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا اور زمین و آسمان کی یعنی ساری کائنات کی پیدائش میں تم کوئی تفاوت نہیں دیکھو گے فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ نظر دوڑا کے دیکھو تو سہی کیا تمہیں کہیں کوئی رخنہ کوئی سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ پھر نظر کو دوڑاؤ تمہاری طرف تمہاری نظر لوٹ آئے گی تھکی ہاری لیکن خدا کی عظیم ترین کا ئنات میں تم کہیں کوئی رخنہ، کوئی سوراخ نہیں دیکھو گے۔ان آیات کے سرسری مطالعہ سے ایک مضمون سامنے آتا ہے پھر زیادہ قریب کی نظر سے ان آیات کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بظاہر نظر آنے والا تضاد دکھائی دیتا ہے پھر اور مزید گہری نظر سے دیکھا جائے تو وہ تضاد دور ہو کر ایک نہایت ہی حسین موافقت نظر آتی ہے اس مضمون کے درمیان۔اسی طرح انسان جب خدا کی کائنات میں جستجو کے نئے سفر کرتا ہے تو اس کے اوپر یہ حالتیں آتی رہتی ہیں۔پہلی سرسری نظر میں اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا پھر جب تردد کرتا ہے غور کرتا ہے تو جب علم ناکامل ہو سفر آغاز میں ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ میں نے بہت سی خرابیاں محسوس کر لیں ، بہت سی خرابیاں دریافت کر لیں لیکن جب انسان اور زیادہ گہری اور عمیق نظر سے مطالعہ کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پہلا علم خام تھا خدا کی کائنات میں کوئی خامی نہیں۔سائنس نے جو معلوماتی سفر کیا ہے اس پر بھی یہ ادوار آئے اور قرآن کریم کے مطالعہ کرنے والوں پر بھی یہ ادوار آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنی حفاظت اور اپنی پناہ میں رکھتے ہوئے لمس شیطان سے پاک رکھتے ہوئے گہرے اور عمیق مضامین کے مطالعہ اور ان کے فہم کی توفیق عطا فرماتا ہے اور اس کے نتیجے میں پھر اس آیت میں جو بیان ہوا ہے منظر کہ ساری کائنات میں تم کہیں کوئی فتور نہیں دیکھو گے۔اس مضمون میں انسان حق الیقین تک پہنچ جاتا ہے۔جس سرسری نظر کے مطالعہ سے تضاد کا میں نے ذکر کیا ہے اس کے متعلق میں واضح طور پر آپ کے سامنے اس کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔پہلے فرمایا ہم نے زندگی اور موت کو الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيُوةَ اس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا تا کہ وہ معلوم کرے تم میں سے کون بہتر اعمال کرنے والا ہے جس کے نتیجے میں وہ زندہ رہ سکتا ہے۔