خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 76

خطبات طاہر جلد ۶ 76 خطبہ جمعہ ۳۰/جنوری ۱۹۸۷ء نہ پائے جب تک اس کی کوششوں کو پھل نہ لگنے شروع ہو جا ئیں اور جب میں ایک احمدی کہتا ہوں تو خاندان کے نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو ایک خاندان ایک اور خاندان بنائے اور جہاں جہاں اب تک مقامی طور پر احمدی حاصل نہیں ہوئے یعنی مقامی طور پر پودے جو د ہیں کی آب و ہوا کے پودے ہیں وہ حاصل نہیں ہوئے وہاں کوشش کریں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ کم سے کم ایک سو خاندان تو پیش کر سکیں ہم کہ ہر سال کا ایک خاندان ہم تیرے حضور پیش کرتے ہیں۔اگر سارے احمدی اس عہد کو چھٹ جائیں ، حرز جان بنالیں ، دن رات دعائیں کریں اپنے لئے اور ایک لگن کے ساتھ محنت کرنی شروع کر دیں تو جتنے خاندان احمدی یہاں موجود ہیں اتنے ہی اور خاندان آپ کو عطا ہو سکتے ہیں لیکن سو میں نے اس لئے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر شخص کو انگریز پھل ہی ملے۔ہوسکتا ہے کسی کو یہاں سے جاپانی پھل مل جائے ، ہوسکتا ہے کسی کو چینی پھل مل جائے ، کسی کو ہندوستانی کسی کو پاکستانی۔تو سو خاندان جب میں کہتا ہوں تو یہ مراد نہیں کے باقی سارے کام نہ بھی کریں تو سوتو مل جائیں۔میں توقع رکھتا ہوں کے سارے کام کریں۔ہر شخص ہر خاندان اللہ تعالیٰ کے حضور ایک نیا شخص یا ایک نیا خاندان ضرور پیش کر رہا ہو اور ان میں سے کم از کم سو خاندان تو انگریز ہوں اور اگر جرمنی میں کام کر رہا ہے داعی الی اللہ تو کم از کم سو خاندان جرمن ہوں۔اسی طرح یہ پیغام آگے پھیلتا چلا جائے گا۔لیکن اس میں بھی امر واقعہ یہ ہے کہ جب میں کہتا ہوں کہ دو، آئندہ دو سال میں تو در حقیقت یہ دو بھی کافی نہیں ہیں۔یہ کم سے کم عہد ہونا چاہئے ایک احمدی کا۔اب وقت یہ نہیں ہے کہ ہم ایک اور دو میں باتیں کر رہے ہوں۔بہت بڑے کام ہیں جو کرنے والے ہیں۔ہمارے مقابل پر دنیا کی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ ایک ملک پہ بھی ہم اپنی ساری طاقت کو مرکوز کر دیں، تب بھی بے انتہاء محنت کرنی پڑے گی اس ملک کو فتح کرنے کے لئے یعنی اسلام کے لئے اور اللہ کے لئے۔تو اس لئے جب میں یہ کہتا ہوں تو جتنا بھی زور دوں آپ پوری طرح سمجھ نہیں رہے میری بات کو، کتناز ور دینے کی ضرورت ہے۔جتنا بھی تصور آپ کا پہنچتا ہے اس تصور کو وہاں تک پہنچائیں تب بھی آپ پوری بات نہیں سمجھیں ہوں گے۔بہت زیادہ اہم بات ہے کہ ہم جلد از جلد اپنی تعداد کو غیر معمولی طور پر آگے بڑھا ئیں۔یہ دو کے ذکر سے مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔اس سے پہلے بھی ایک