خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 781 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 781

خطبات طاہر جلد ۶ 781 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء کے خلاف باتیں شروع کیں اور مسائل کے متعلق اسلام کا عالمی تصور کیا ہے کس طرح مسائل حل ہوں گے؟ کس طرح انسان کو Peace ملے گی؟ کس طرح دنیا میں امن قائم ہوگا ؟ اس قسم کے سوالات تھے اور مسلمان ممالک کے متعلق جو ان کے ذہن میں تصویر تھی اس کے پیش نظر ان کے سوالات میں کافی جارحیت تھی۔تو ان کو میں نے پہلے ہی جواب دیا میں نے کہا بڑا آسان طریق ہے احمدی ہو جائیں آپ تو ساری دنیا میں امن آجائے گا اور عیسائی بھی یہودی بھی سب جھگڑے ختم اور وہ پہلے تو ہنس پڑے سمجھے کہ میں مذاق کر رہا ہوں پھر انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ تم سنجیدہ ہو اس جواب میں؟ میں نے کہا ہاں! نہ صرف سنجیدہ ہوں بلکہ کامل یقین ہے مجھے۔تو اس نے کہا یہ تو لغو جواب ہے بالکل بے معنی جواب میں تو نہیں توقع رکھتا کہ اس قسم کے سوال کا جواب یہ ہو۔میں نے کہا پھر اسی پر گفتگو ہو جائے کہ بے معنی جواب ہے کہ نہیں اور میں ساری تفصیل سے آپ کو سمجھاتا ہوں۔چنانچہ جب ان کو سمجھایا تو جارحیت تو در کنار ان کے اندر غیر معمولی دوستی پیدا ہو گئی اور انہوں نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو اب جو اس کے بعد آپ کی تقریب ہو رہی ہے مجلس اس میں بھی میں شامل ہو جاؤں؟ میں نے کہا ہاں ! ضرور شوق سے تشریف لائیں۔چنانچہ وہ اس میں شامل ہوئے پھر دوبارہ اجازت لے کر قریب آ کے کرسی پر بیٹھ گئے۔پھر انہوں نے کہا میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔اسلام سے جو مجھے نفرت ہوئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک دفعہ مسلمان ہو گیا تھا اور مسلمان ہونے کے بعد جن لوگوں کے پہلے پڑا جس قسم کے مسلمانوں سے واسطہ پڑا غیر ملکوں کا خصوصا ذکر کیا انہوں نے غیر ملکی نمائندوں سے اس سے مجھے شدید جھٹکا پہنچا اور پھر میں نے دعا کی کہ اے خدا! میں تو ہدایت کی خاطر اس طرف آیا تھا یہاں تو اس قسم کے لوگ ہیں، اس قسم کے ان کے تصورات ہیں، میری فطرت کے خلاف ہے یہ اسلام تو میری ہدایت فرما۔کہتے ہیں اس دوران مجھے دھکا لگا بڑی زور سے اور میں چاروں شانے چت جا گرا اور اس سے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ اس اسلام کو رد کر دو اور یہ دھکا ملا ہے اور میں نے اسی وقت پھر چھوڑ دیا اور شروع میں جو میرے سوالات میں ایک جارحیت پائی جاتی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک پس منظر ہے میری دشمنی اور نفرت کا لیکن آج جو میں نے انٹرویو کے دوران اور یہاں مجلس میں باتیں سنی ہیں میں اب شک میں پڑ گیا ہوں کہ میرا فیصلہ درست تھا یا غلط تھا اور اس کی تعبیر کیا تھی جو واقعہ میرے ساتھ گزرا؟ اور پھر انہوں نے اس کے