خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 780
خطبات طاہر جلد ۶ 780 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء کرتے تھے اور کبھی بھی تقریبات میں آنے نہیں دیتے تھے ان کے گھر میں کوئی عزیز بیمار ہو گیا تو چونکہ عورتوں میں زیادہ توجہ ہوتی ہے دعا کی طرف بالعموم یہ دیکھا گیا ہے خصوصا بچوں کے معاملے میں زیادہ تر پھر وہ ہر تعصب کو بالائے طاق رکھ کر جہاں سے بھی ان کو امید ہو کہ دعا کے نتیجے فائدہ ہوسکتا ہے وہ کوشش کرتیں ہیں۔تو ان کی بیوی اس خیال سے کہ شاید ان کی دعا سے ہمارے بچے بچی کی مراد پوری ہو جائے ٹھیک ہو جائے وہ تشریف لے آئیں ہماری ایک مجلس سوال و جواب میں اور ان کے ساتھ ان کی ایک بچی بھی تھی اور اس کے بعد پھر ملاقات کی پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ہمارا مسئلہ ہے اس میں دعا بھی کریں اور اگر دوا بھی ہو سکتی ہے تو وہ بھی دیں۔ان کے ساتھ جو بچی تھی اس کا ایک اپنی چھوٹی سی معصوم سی ایک تکلیف تھی یعنی ایک خواہش تھی اور ایک تکلیف تھی اس کا اس نے ذکر کیا۔اس نے کہا کہ کافی عرصہ سے مجھے یہ پریشانی ہے تو میرے لئے بھی دعا کریں اور اللہ تعالیٰ کی ایسی شان اس طرح ظاہر ہوئی ، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نتیجے خدا ظاہر فرماتا ہے کس طرح خدا نے ان کے خاندان کا دل بدلنے کے لئے انتظام کئے کہ دوسرے دن ہی اس بچی کی وہ خواہش جس کے پورے ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے وہ پوری ہوگئی اور جس رنگ میں ہوئی وہ حیرت انگیز تھا۔چنانچہ جب اس کے والد کام سے واپس آئے تو اس وقت اس نے یہ راز کھول دیا ان کے سامنے کہ آپ تو منع کیا کرتے تھے اور یہ واقعہ ہوا ہے ہم وہاں گئے ہیں اور یہ باتیں سنیں اور پھر یہ دعا کروائی اور یہ دیکھ لیں کہ یہ خدا کے فضل سے پوری بھی ہوگئی تو ان کے والد کا فون آیا، اس بچی کے والد کا کہ اگلی مجلس میں میں بھی شامل ہونا چاہتا ہوں۔چنانچہ نئی دوسری مجلس جو غیروں کے لئے تھی خصوصیت سے غیروں سے مراد ہے غیر مسلموں کے لئے بعض اس میں پاکستانی بھی تھے ان کو بھی بلا لیا گیا اور اللہ کے فضل سے نتیجہ یہ نکلا کہ جب میں وہاں سے (لاس اینجلس کی بات ہے ) سان فرانسسکو گیا تو انہوں نے اپنے بھائی کو جو وہاں رہتے تھے فون کر کے یہ تاکید کی کہ وہ مجھ سے ضرور ملیں اور اپنی فیملی کو لے کے آئیں چنانچہ انہوں نے بھی وقت لیا اور ان سے بھی اچھی گفتگو ہوئی۔تو ہر جگہ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے دلوں پر تصرف فرمارہا تھا اور بہت ہی نیک نتائج اس کے ظاہر ہوتے چلے گئے۔کئی جگہ شروع میں ملنے والوں کا رویہ جارحانہ تھا ان میں عیسائی بھی تھے اور دوسرے بھی مثلاً ایک پریس کے انٹرویو لینے والے دوست نے بڑے ہی جارحانہ انداز میں اسلام