خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 779 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 779

779 خطبه جمعه ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء خطبات طاہر جلد ۶ یہاں تک کہ غیروں نے خود ان کے متعلق ہمیں تفاصیل بیان کیں کہ کتنی توجہ کے ساتھ آپ کے دورے کو ناکام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایک Voice of America کے انٹرویو کے بعد ہی وہاں کے انٹرویو لینے والے نے ہمیں فون پر اطلاع دی کہ ایک ہمارے سفارت خانے پر اتنا دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ان کا کوئی انٹرویو وہاں سے براڈ کاسٹ نہ کیا جائے کہ اب تک ہمیں چھ Telex موصول ہو چکی ہیں اور اس دباؤ کے نتیجے میں اگر چہ میں تو بالکل دینے والا انسان نہیں ہوں مگر ہمارا شعبے کے بڑے سر براہ وہ ڈر گئے ہیں اور انہوں نے مجھے کہا ہے کہ اس انٹرویو کو شائع نہ کرو۔چنانچہ ہم نے ان سے پوچھا۔میں نے خود تو بات نہیں کی جو مجھے بتایا گیا تو میں نے کہا پھر ان سے پوچھو کہ پھر انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا میرا فیصلہ تو یہی ہے کہ لازما اس انٹرویو کو میں براڈ کاسٹ کروں گا لیکن میں نے اپنے افسران سے یہ کہا ہے کہ آپ ایک بورڈ بٹھا دیں وہ اس کی سکروٹنی (Scrutiny) کریں اور اگر ان کو کوئی قابلِ اعترض چیز نظر آئی تو بیشک اس حصے کو نکال دیں لیکن یہ کوئی قابل قبول بات نہیں ہے کہ کوئی حکومت پسند نہیں کرتی کہ کسی کا انٹرویو ہو اور وہ انٹر ویو اس لائق ہو کہ ہمارے عوام اس کو سنیں یا دنیا کے دوسرے عوام اس کو سنیں اور ہم اس کو بند کر دیں یہ میری سمجھ سے بالا بات ہے۔چنانچہ تین یا چار آدمیوں کا ایک بورڈ بیٹھا اس نے تفصیل سے اس انٹرویو کو سنا اور اس کو کڑی نظر سے دیکھا اور آخر پر فیصلہ کیا ایک فقرے کے متعلق کہ اگر یہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں تو جس نے انٹرو یولیا تھا اس نے کہا کہ میرے نزدیک تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں انہوں نے کہا ٹھیک ہے پھر اس کو بھی بیچ میں شامل کر دو۔تو یہ حالت تھی شدید مخالفانہ کوششیں کی جارہی تھیں۔ہر جگہ جہاں ہم پہنچتے تھے تقریبا ہر جگہ یعنی اکثر صورتوں میں ایک ایک گھر چٹھیاں پہنچائی گئیں کہ ان کی بات سننے کے لئے کوئی نہ آئے مسلمان کو بھی اور غیر مسلموں کو بھی روکا گیا کہ کوئی ان کی بات نہ سنے اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے سے لوگ رُکے نہیں اور چلے آئے اور خدا کے فضل سے بہت ہی نیک اثرات ظاہر ہوئے اور بڑے اچھے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔بعض جگہ تو ایسی شکل تھی کہ ایک خاوند ہیں بڑے قابل پاکستانی اور یجن کے یعنی خاوند میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آگے بیوی کا ذکر اس رنگ میں آنے والا ہے کہ ان کا تعارف خاوند کے طور پر ہی ہونا چاہئے ، وہ اپنے بیوی بچوں کو احمدیوں سے ملنے سے روکا فضل۔