خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 778
خطبات طاہر جلد ۶ 778 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء تو یہ مسائل اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کی توفیق ملی اور میں نے محسوس کیا کہ وہ لوگ صحیح اور نیک مشورے کی قدر کرتے ہیں اور بڑی جلدی اس کی طرف متوجہ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس لئے یہ سارے خوفناک نقشوں کے باوجود جو ہمیں وہاں دکھائی دے رہے ہیں۔امریکہ سے ہمیں ایک امید رکھنی چاہئے اور بھی کئی ایسے پہلو ہیں جس کے نتیجے میں ہمیں امریکہ کی طرف نسبتا زیادہ توجہ دینی چاہئے۔اکثران ملاقاتوں کے بعد جو مجالس میں ہوئیں بہت سے دوستوں کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ ہمیں علیحدہ ملاقات کے موقعے بھی دیئے جائیں اور ان میں بعض Afro-American لیڈرز بھی تھے اپنے اپنے علاقے کے جنہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کیونکہ میرے پاس وقت تھوڑا تھا اس لئے میں خود تو ان سے دوبارہ ہل نہیں سکتا تھا میں نے ان کو اپنے مقامی جماعتوں کے پتے دیئے بعض ایسی شخصیتوں کے جن کے متعلق مجھے امید تھی کہ ان کو مطمئن کر سکیں گے لیکن اس کے باوجود ان کا مطالبہ یہ رہا کہ ہمارے مسائل میں راہنمائی کی خاطر آپ ہمیں خود بھی ضرور وقت دیں۔چنانچہ بعد میں کہا کہ اگر آپ ہمیں لنڈن میں وقت دینا چاہتے ہیں تو ہم وہاں آنے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ بعضوں کو ان میں سے وقت میں نے دیا ہے کہ وہ لنڈن جب بھی تشریف لائیں یا اسی غرض سے اگر سفر کرنا چاہتے ہیں تب بھی وہ تشریف لائیں اور انشاء اللہ جتنا بھی ممکن ہوا میں ان کو وقت دے سکا تو اتنا وقت دوں گا۔تو کئی پہلوؤں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سفر بہت ہی مصروف گزرا اور جس حد تک بھی انسان اپنے وقت کو بہترین مصرف میں استعمال کر سکتا ہے وہاں کی جماعت نے کوشش کی کہ میرے وقت کو اس کا ایک ایک منٹ جس حد تک بھی باندھا جا سکتا ہے مصروفیتوں میں وہ باندھا جائے اور اس کے نیک نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔جہاں تک نیک نتائج کا تعلق ہے اس میں ایک ذرہ بھی شک نہیں کہ نیک نتائج تو خدا ہی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔کوششیں آپ جتنی چاہیں کریں اگر دعا شامل حال نہ ہو یا اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت شامل حال نہ ہو تو وہ ساری کوششیں نا کام جاتی ہیں۔چنانچہ ہماری کوششوں کے مقابل پر بعض حکومتیں اس سفر کو ناکام بنانے کے لئے ہم سے بہت زیادہ قوی کوششیں کر رہی تھیں۔