خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 72

خطبات طاہر جلد ۶ 72 خطبہ جمعہ ۳۰ / جنوری ۱۹۸۷ء آپ اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کی پیاری حرکتوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں جیسا کہ میں نے پہلے بھی گزارش کی ہے کئی مرتبہ محسوس یہ ہو رہا ہے کہ اتنے زیادہ کام پڑے ہوئے ہیں کہ ہم میں استطاعت نہیں ہے وہ کام کرنے کی۔اس لئے ایک ہی حل ہے اس صورت حال کا کہ اپنا جو کچھ ہے وہ خدا کے سپر د کر دیں، جو کچھ کر سکتے ہیں وہ سب کچھ کریں۔باقی خانے جتنے بھی خالی رہ جائیں گے وہ خدا خود بھرے گا۔یہ اس کا وعدہ ہے۔اس لئے اپنی طرف سے کسی قسم کی کمی نہ آنے دیں۔صد سالہ جشن میں مختلف رنگ میں جو ہم نے خدا کے حضور اپنے عاجزانہ، فقیرانہ ہدیے پیش کرنے ہیں التحیات للہ کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان میں بہت سی باتیں ہیں جو صد سالہ جو بلی کے پیش نظر اس سے پہلے بیان کی جاچکی ہیں اور بہت سی ایسی باتیں ہیں جن پر مسلسل غور ہو رہا ہے اور وہ لوگ جن کے کام ہیں وہ مصروف ہیں دن رات ان باتوں کو مزید نکھارنے اور سنوارنے پر اور کس طرح ان کو عمل کی شکل میں ڈھالا جائے گا، کون کیا کام کرے گا۔یہ تمام کام ایسے ہیں جن پر مسلسل کام ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور اس کی تمام دنیا کی جماعتوں کو حصہ رسدی اطلاعیں دی جا رہی ہیں۔بالعموم جماعت کو جو میں اس ضمن میں خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ صد سالہ جو بلی کے دوران میرے دل کی تمنا یہ ہے کہ بہت سے ایسے ممالک جہاں مقامی طور پر چند خاندان ابھی تک اسلام میں داخل ہوئے ہیں وہاں کم سے کم سو خاندانوں کو ہم اسلام میں داخل کر لیں۔اور جہاں جماعت نافذ ہو چکی ہے وہاں ہم یہ کہ سکیں کہ ہر سال کے لئے ہم یہ حقیر اور عاجزانہ تحفہ پیش کرتے ہیں کہ ہم نے مقامی طور پر ایک خاندان کو داخل کر لیا ہے۔بعض ممالک میں تو خدا کے فضل سے ہزاروں خاندان داخل ہو چکے ہیں۔لیکن آپ جس ملک میں رہتے ہیں اور یورپ کے اور بہت سے ممالک ان میں بدقسمتی سے مقامی احمدیوں نے یعنی وہ لوگ جو باہر سے آکر مقامی بنے انہوں نے تبلیغ کی طرف پوری توجہ نہیں کی اور جو کام ان کو بیس پچیس سال پہلے سے شروع کرنا چاہئے تھا اسے شروع کرنے میں بہت دیر کر دی۔نتیجہ یہ نکلا کہ جس رنگ میں یہاں داعی الی اللہ بننے چاہیئے تھے اور جو یہاں کے لوگ استطاعت رکھتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی ہم نتیجہ حاصل نہیں کر