خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 755
خطبات طاہر جلد ۶ 755 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء محبت پر غالب آجاتی ہے اگر وہ سچی ہو۔اس لئے لازما وہ لوگ خدا کی طرف کھینچے جائیں گے اگر ان کو بلانے والے خدا کی طرف تھے، اگر ان کو بلانے والے خدا کی محبت اپنے دل میں رکھتے ہوں۔پس اس پہلو سے قرآن کریم فرماتا ہے ہاں ! اب تم تیار ہو گئے ہو کہ بنی نوع انسان کو نیکی کی طرف بلا ؤ اور برائیوں سے روکو کیونکہ تمہارا حبل اللہ سے تعلق قائم ہو چکا ہے کیونکہ تم اللہ کی محبت کے نتیجے میں اس کے بندوں اور اس کے غلاموں سے محبت کرنے کے اہل ہو گئے ہو۔یہ ہو جاتا ہے ایسی سوسائٹیاں وجود میں آتی ہیں جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ کے زمانے میں ایک عوض الشان خدا کی محبت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی محبت سے لوگ باندھے گئے تھے لیکن پھر اگلی نسلیں آتی ہیں، ان کو یہ باتیں ورثہ میں ملتی ہیں، ان کے لئے یہ تاریخ ہو جاتی ہے۔ان کو مخاطب کر کے فرمایا: وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ هُمُ الْبَيِّنَتُ کہ خبردار! یہ نہ سمجھنا کہ یہ بندھن ہمیشہ مضبوط رہیں گے، خطرہ ہے کہ آئندہ نسلوں میں یہ بندھن کمزور ہو جائیں اور ان تعلقات کو تم رسمی تعلقات سمجھ لو ہم یہ سمجھ لو کہ ماں باپ کے تعلق تھے جو ہمیں ورثے میں ہیں، ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ اس طرح یہ تعلق قائم رہنے کے نہیں یہ پھر ٹوٹ جائیں گے۔اس لئے ایسے بد بخت انسان نہ بننا جن کو خدا نے اپنی محبت عطا کی ہو اور اس محبت کے نتیجے میں ان کے دلوں کو باندھا ہوا ان کو ایک نظام سے وابستہ فرمایا ہو اور پھر وہ اس کی ناقدری کرتے ہوئے اس سے اپنا تعلق کمزور کر دیں اور سب کچھ دیکھنے کے باوجود ، تمام کھلے کھلے نشانات کا مشاہدہ کرنے کے باوجود پھر وہ اس تعلق کو توڑ لیں۔وَأُولَكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ایک بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔پس نیک لوگوں کے متعلق تو آپ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایک دفعہ خدا کی محبت ان کے دل میں پیدا ہو جائے اور شیطان ان پر غالب آجائے۔اس لئے ان کا ذکر چل ہی نہیں رہا۔یقیناً ان کی آئندہ نسلوں کی بات ہو رہی ہے۔یہ تو کبھی ہم نے نہیں دیکھا کہ کوئی قوم خدا کی محبت کی خاطر دنیا کی محبتوں کو تج کر دے اور ان کو دھتکار دے یہاں تک کہ کسی میں اتنی طاقت بھی نہ ہو کہ ساری دنیا کی دولتیں ان کے اوپر خرچ کر کے بھی ان کا ایک دل خرید سکے۔کبھی ایسے لوگ بھی خدا سے دور جایا کرتے ہیں ہر گز نہیں وہ تو کامل وفا سے خدا کی محبت کی خاطر جیتے اور خدا کی محبت کی خاطر مرتے ہیں اور کبھی اس تعلق کو نہیں توڑا کرتے۔یہ مضمون آئندہ نسلوں پر چسپاں ہوتا ہے۔فرمایا ان لوگوں کی طرح