خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 754 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 754

خطبات طاہر جلد ۶ 754 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء کوشش کریں گے تو اول تو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں کہ وہ دلیل کو عمدگی سے پیش کر سکے اور دوسرے محض دلیل کے ذریعے معاشرے تبدیل نہیں ہوا کرتے۔لوگ سمجھتے بھی ہیں کہ ایک چیز بری ہے مگر اسے چھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔لوگ جانتے ہیں کہ اچھی نصیحت کی جارہی ہے لیکن اس نصیحت کے اندر ایسی کشش نہیں پاتے کہ اپنی برائی کی کشش پر اس کو غالب آتا ہوا دیکھیں۔سمجھتے ہیں عقلاً جانتے ہیں کہ ہاں یہ چیز بری ہے، نصیحت اچھی ہے مگر برائی کے اندر ایک کشش ہے اور کشش ا اور نقل کی طرح، ایک قانون کی طرح وہ کام کرتی ہے۔اس لئے ناممکن ہے کہ نصیحتوں کے ذریعے جن کے اندر کوئی اور وزن نہ ہو آپ لوگوں کو برائیوں سے الگ کر سکیں۔چنانچہ اس مضمون کو دنیا کے ہر ادب میں بیان کیا گیا ہے۔تمام شعراء نے اس مضمون کو کسی نہ کسی رنگ میں چھیڑا ہے اور اسی طرح بیان کیا ہے کہ ہاں ہمیں پتا تو ہے کہ یہ چیز ا چھی نہیں بری ہے مگر کیا کریں دل برائی کی طرف مائل ہو گیا ہے۔جب یہ نفسیاتی کیفیت ہو انسان کی خواہ وہ دنیا کے کسی خطے سے بھی تعلق رکھتا ہو تو محض دلائل اور نصائح سے آپ کیسے ان میں تبدیلی پیدا کر لیں گے۔ٹیلی ویژن پر آپ کئی قسم کی برائیوں کے خلاف مناظرے سنتے ہیں، مباحثات ملاحظہ کرتے ہیں لیکن جو سوسائٹی ہے وہ وہیں کی وہیں رہتی ہے۔اس پر تو ایسی مثال صادق آتی ہے جیسے پنجابی میں کہتے ہیں۔اردو میں بھی اس کا ترجمہ میں بیان کرتا ہوں پنجابی میں بھی محاورہ ہے غالباً اردو میں بھی ہو گا۔سر پہنچوں کا کہا سر آنکھوں پر لیکن پر نالہ وہیں رہے گا جہاں رہنا ہے۔یعنی ہم نے اپنی چھت پر جس جگہ پر نالہ لگایا ہوا ہے سرپنچوں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس پر نالے کو یہاں نہیں ہونا چاہئے لوگوں کی تکلیف کا موجب ہے۔ان کا کہا سر آنکھوں پر لیکن پر نالہ جگہ نہیں بدلے گا یہ وہیں رہے گا۔تو انسانی فطرت کا پر نالہ ہے ایک جو اپنی جگہ نہیں بدلتا۔نصیحتوں کے سامنے سر جھکاتا ہے ان کی تعظیم کرتا ہے، کہتا ہیں ہاں ایک اچھی نصیحت کرنے والے نے ایک اچھی نصیحت کی تھی لیکن پر نالہ وہیں رہتا ہے، وہیں سے بہتا ہے۔اس لئے اس کے مقابل پر کوئی طاقت ہونی چاہئے اور قرآن کریم فرما رہا ہے کہ تمہارے تعلق باللہ کے نتیجے میں تمہاری ذات میں ایک کشش پیدا ہوگی وہ کشش لوگوں کو کھینچے گی ، وہ کشش ان کی برائی سے محبت کے مقابل پر زیادہ قوی ہو جائے گی کیونکہ کشش ثقل زمین کی طرف بلاتی ہے اور خدا کی محبت آسمان کی طرف بلاتی ہے اور خدا کی محبت زمین کی