خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 753 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 753

خطبات طاہر جلد ۶ 753 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء میں بلاتا تو ہوں لیکن باتوں سے نہیں وہ آنے والے، باتوں سے ماننے والے وجود نہیں ہیں۔ہاں دل کے قصے ہیں اگر دل پر کچھ بن جائے اور خدا کرے کہ ایسی بن جائے کہ آئے بغیران کے لئے چارہ نہ رہے۔قرآن کریم نے یہ مضمون حل فرما دیا ہے۔فرمایا تم اپنے دل کو خدا کی آماجگاہ بنا لو۔اپنے دلوں کو خدا کی تخت گاہ بنا لوتو دیکھو گے کہ غیروں کے لئے آئے بغیر چارہ نہیں رہے گا، تم بلاؤ گے تو ان کے لئے اس کے سوا کوئی رستہ نہیں ہو گا کہ تمہارے آواز پر لبیک کہتے ہوئے دوڑتے ہوئے تمہاری طرف چلے آئیں۔ان معنوں میں حضرت محمد مصطفی حملے کا براہ راست دخل تھا۔وہ آیت جو میں نے آپ کے سامنے پڑھ کے سنائی تھی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مومنوں کو اکٹھا کرنے میں تو نے کچھ نہیں کیا۔وہ تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ایک بہت ہی گہرا اور بہت ہی عظیم مضمون ہے جو بیان فرمایا گیا ہے۔لیکن چونکہ حضرت محمد مصطفی امیہ کا دل خدا کی تخت گاہ بن چکا تھا اس لئے آپ کے بلانے میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا ہو گئی تھی۔خدا کی تخت گاہ بن چکا تھا۔اس لئے آپ کے بلانے میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا ہوگئی تھی اور آپ کی آواز میں ایک ایسی عظمت تھی اور انیسی کشش تھی کہ اللہ کی محبت کی خاطر لوگ کھچے چلے آتے تھے۔پس یہ مضمون اور وہ مضمون ایک دوسرے سے متضاد اور متصادم نہیں ہیں۔مراد یہ ہے کہ تو نے اس دل کے ساتھ ان کو بلایا جو خدا کی محبت کی آماجگاہ تھا اور خدا کی محبت کے نتیجے میں یہ لوگ چلے آئے۔ان معنوں میں خدا کی محبت ہی ہے جس نے ان کے دلوں کو باندھا ہے اور اس کے سوا اور کوئی طاقت نہیں۔پھر فرمایا وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ صرف وہ نیکیوں کی طرف نہیں بلاتے بلکہ برائیوں سے روکتے بھی ہیں اور یہ اس مضمون کا کسی شخص کے مسلمان ہونے سے تعلق نہیں ہے۔تمام معاشرے پر یا تمام معاشرے کا ایک مسلمان پر جو حق ہے وہ بیان فرمایا گیا ہے۔اس لئے آپ کو اپنے گردو پیش کو برائی سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنے ماحول کو نیکی کی طرف بلانا چاہئے اور نیک نصیحت اور جذبے کے ساتھ ایسا کرنا چاہئے۔اگر آپ اس طرح کام شروع کریں گے تو لا زما لوگ آپ کی آواز پر لبیک کہیں گے اگر دلائل کے رستے اور منطق کی دقیق راہوں سے آپ دنیا کو اپنی طرف بلانے کی