خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 71

خطبات طاہر جلد ۶ 71 خطبہ جمعہ ۳۰/جنوری ۱۹۸۷ء بات نکل گئی کہ ہم جس کے غلام ہیں وہ تو لح لحہ نئی شان دکھانے والا آقا ہے اور جس خدا نے اس کو پیدا کیا وہ تو كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ کا مقام رکھتا ہے اس سے ہرشان پھوٹتی ہے۔تو جومحمد مصطفی ﷺ کا غلام ہو اور اللہ کا غلام ہو اس کی شان کیسے کوئی نوچ کے چھین سکتا ہے، ناممکن کام ہے یہ ان کے لئے۔اگر خدانخواستہ ربوہ میں حالات ایسے نہ ہوئے کہ وہاں جشن اس طرح منایا جائے جیسا کہ جماعت نے منانا تھا تو دنیا کے کونے کونے میں اس شان اور اس قوت کے ساتھ یہ جشن منایا جائے گا کہ دشمنوں کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے اس کے ولولے سے اور ان کے دبدبے سے۔جس شوکت سے نعرہ تکبیر بلند ہوں گے دنیا میں وہ ان کے دلوں کو دہلا دینے والی شوکت ہوگی۔اس لئے کہاں ان کی طاقت ، کہاں ان کی مجال کہ محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کی شان کھینچ سکیں، شان نوچ سکیں ، یہ نہیں نوچ سکتے۔یہ ملک جہاں میں اس وقت مخاطب ہو رہا ہوں آپ سے یہ ملک بھی نئی اور دو بالا شان کے ساتھ اسلام کا حسن دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہوگا۔اور آپ ہوں گے جو اس حسن کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہوں گے۔افریقہ بھی ایک نئی شان کے ساتھ نئے ولولے کے ساتھ پیش کر رہا ہوگا۔نئے روپ کے ساتھ یہ شان ایشیاء کے سارے ممالک میں دکھائی جائے گی، نئے روپ کے ساتھ یہ شان دنیا کے ہر بر اعظم میں دکھائی جائے گی۔اس کے لئے ، اس کی تیاری کے لئے وقت تھوڑا رہ گیا ہے اس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ صرف مالی قربانی کافی نہیں ہے۔آپ نے خدا سے ایک عہد باندھا ہے، خدا نے آپ سے ایک عہد باندھا ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنی جانیں بھی ہم تیرے حضور پیش کر دیتے ہیں ، ہماری نہیں رہیں، پہلے بھی تیری تھیں مگر ہم ایک اور رنگ میں اب تجھے واپس کرتے ہیں جس رنگ میں ہمارا غیر واپس نہیں کرتا تجھے۔یہ طوعاً کا مضمون ہے کرھا کا مضمون نہیں اور دوسرے ہمارے اموال بھی تیرے ہی تھے اب بھی تیرے ہیں مگر ہم طوعاً تجھے واپس کرتے ہیں جبکہ باقی دنیا سے تو کرھ واپس لیتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے عہد کا جس کو زندگی کے ہر پہلو میں، زندگی کے ہر عمل میں دخل ہے۔اور زندگی کا جو پہلو، جو عمل بھی اس سے متاثر ہوتا ہے اس پر خدا کے پیار کی نظر پڑتی ہے۔یہ مضمون ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔اس لئے اپنی زندگی کے ہر پہلو کو اللہ تعالیٰ کے پیار کا مرکز بنا دیں۔ہر عمل کو ایسا حسین بنانے کی کوشش کریں کہ خدا کی محبت اور پیار اور رضا کی آنکھ اسے اس طرح دیکھ رہی ہو جیسے۔