خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 70
خطبات طاہر جلد ۶ 70 خطبہ جمعہ ۳۰/جنوری ۱۹۸۷ء کی سنت کے غلبہ کی خاطر جماعت احمدیہ نے جو کام سنبھالے ہیں اور جن کی طرف میں خصوصیت سے آپ کو توجہ دلاتا رہا ہوں اور اس خطبہ میں ایک خاص نقطہ نگاہ سے مزید توجہ دلاؤں گا ان کے متعلق سب سے عظیم الشان خوشخبری تو یہی ہے کہ وہ اللہ کی نظر میں ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کاموں کو کوئی دنیا کی طاقت نا کام نہیں بنا سکے گی اور تیسرا یہ کہ ان کا پھل صرف آخرت میں نہیں ملے گا، اس دنیا میں بھی لا زما ملے گا۔یہ وہ کلمات اللہ ہیں جن کو کوئی دنیا میں تبدیل نہیں کر سکتا۔صد سالہ جو بلی کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ صرف دو سال باقی رہ گئے ہیں اور صد سالہ جو بلی دراصل ہمارے دشمنوں کا اس وقت وہ خاص نشانہ بنی ہوئی ہے۔ان کی نفرتوں کا ، ان کے حسد کا اور وہ ہر طرح سے پورا زور لگا رہے ہیں کہ صد سالہ جو بلی کے جشن کو ناکام بنا دینا ہے۔ربوہ کے خلاف جو سازشیں ہوئیں، جماعت احمدیہ کے خلاف جو پاکستان میں سازشیں ہوئیں، جن کا سب سے بڑا نقطہ ربوہ پہ جا کے ختم ہوتا تھا کہ ربوہ کی مرکزی حیثیت کو ختم کیا جائے ، ربوہ کی شان لوٹ لی جائے ، ربوہ میں ہر قسم کے جلسے بند کر دیئے جائیں کیونکہ بالآخر بڑی تیزی کے ساتھ جماعت صد سالہ جوبلی کے جشن کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس مقام نے وہ ساری دنیا کا مرکز اور صح نظر بن جانا ہے۔یہاں اگر کوئی شاندار سطح پر سو سالہ جشن منایا گیا تو اس کے نتیجے میں سارے پاکستان میں نہیں ساری دنیا میں یہ بات لا ز ما مستحکم ہو جائے گی کہ اب اس جماعت کو دنیا میں کوئی مٹا نہیں سکتا۔اس درجہ کمال کو پہنچ چکی ہے، اس بڑے مرتے کو پہنچ چکی ہے، اتنی قوت حاصل کر چکی ہے کہ اب اس جماعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔یہ وہ خطرہ تھا جس کے پیش نظر ساری سازشوں نے جنم لیا اور اسی لئے کھیلیں بند کیں پہلے، درجہ بدرجہ دشمن نے اپنی سکیم کو کھولا ہے کھیلیں بند کیں، چھوٹے چھوٹے اجتماعات بند کئے ، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بند کیا، پھر گاڑیاں جو چلا کرتی تھیں خاص وقت میں ان کی سہولت کھینچ لی۔ہر طرح سے رخ بالآخر جلسے کی طرف ہی تھا اور جلسہ سالانہ بند کر کے انہوں نے اپنی طرف سے جو بلی کے جلسے کی راہ میں وہ دیوار کھڑی کر دی جو وہ سمجھتے ہیں کہ ٹوٹ نہیں سکتی لیکن ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے یہ تو یقینی ہے کہ اس کے بدلے میں جو دشمن ہم سے کر رہا ہے خدا تعالیٰ بہت بڑی عظمتیں دینے والا ہے۔جس شان کا تصور کر کے انہوں نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی ان کے ذہن سے یہ