خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 697
خطبات طاہر جلد ۶ 697 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء صلى الله ذکر کر نہیں کرسکتا۔ہر انسان کی کیفیت مختلف ہے، ہر انسان کی کمزوریاں مختلف ہیں ، ہر انسان کی خوبیاں مختلف ہیں اور معاشرے کا اس پر اثر مختلف رنگ میں پڑتا ہے،اس کے مزاج کا اثر پڑتا ہے۔اس لئے سوائے اس نسخہ کے اور کوئی نسخہ میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ ان معنوں میں اللہ کا تقویٰ اختیار کریں جن کا میں آپ کو بتا رہا ہوں ، جو میں نے قرآن سے اور آنحضور ﷺ سے سیکھا ہے کہ ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہے آپ کے ساتھ کہ خدا پتا نہیں کیا مجھ سے پیار کر رہا ہے یا نہیں کر رہا؟ اس کا تعلق ہے یا نہیں ہے؟ جب یہ فکر کریں گے تو آپ کا تعلق خود بخود بڑھنے لگے گا آہستہ آہستہ اس مضمون میں آپ کو مزہ آنا شروع ہو جائے گا۔آہستہ آہستہ مستقل آپ کے ساتھ ایک اصلاح کا ذریعہ ایسا چمٹ جائے گا کہ وہ کسی حالت میں آپ کو چھوڑے گا نہیں۔دن رات ، سوتے جاگتے رفتہ رفتہ یہ خیال غالب آنا شروع ہو جائے گا۔پس اس خیال کے ساتھ آپ اپنی اصلاح کا سفر شروع کریں تو میں آپ کا یقین دلاتا ہوں کہ دنیا کا کوئی معاشرہ کبھی آپ پر غالب نہیں آسکتا، ممکن ہی نہیں ہے کہ خدا سے پیار کرنے والوں، خدا کا ذکر کر نے والوں ، خدا کی محبت کے ضائع ہونے کے خوف میں ہر دم مرتے رہنے والوں پر کوئی دنیا کا معاشرہ غالب آ سکے۔جب یہ تعلق آپ کا قائم ہو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تو یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ بچپن ہی سے خدا کا ذکر نہ کریں۔جن لوگوں کے اوپر خدا کا خیال غالب رہتا ہے وہ لا زما بچپن سے اپنے بچوں سے ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں اور بچپن سے ہی ان کو خدا کے پیار کی باتیں سکھاتے رہتے ہیں۔چنانچہ احمدیت میں تو یہ عام بات ہے اور بہت سے ایسے خاندان جن سے میری ملاقات ہوتی ہے سفروں کے دوران ان کے بچوں سے میں فوراً پہچان جاتا ہوں کہ ماں باپ کیسے ہوں گے۔بعض بچے ہیں جو شروع ہی سے ان کی اداؤں سے پتا چلتا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ سے پیار ہے اور باتیں بھی اللہ تعالیٰ کی کرتے ہیں۔اپنے اپنے رنگ میں غلطیاں بھی کرتے ہیں نا سمجھی میں بعض دفعہ غلط تصورات پیش کر دیتے ہیں جن کی اصلاح کر دی جاتی ہے لیکن اس سے ایک بات جو قطعی طور پر ثابت ہے وہ یہ ہے کہ ان کے ماں باپ نے ضرور بچپن سے ہی ان کے دل میں خدا کا پیار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔