خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 696
خطبات طاہر جلد ۶ 696 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء کہ تمہیں محبت بہت ہے کیونکہ عشق است و ہزار بدگمانی۔ہر دفعہ تمہیں بدگمانی ہو جاتی ہے کہ کہیں میں ناراض نہ ہو گیا ہوں۔تو اگر اسی مضمون کو آگے بڑھا کر خدا کی طرف لے جائیں تو پھر آپ کو محسوس ہو گا کہ تقویٰ والوں کی زندگی کیسے بسر ہوتی ہے اور ہر وقت ہر حالت میں ان کو یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ میرا محبوب مجھ سے ناراض نہ ہو جائے کہیں یا ناراض نہ ہو گیا ہو۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھی صحابہ ان وہموں کے ساتھ حاضر ہوا کرتے تھے، ان فکروں کو بیان کیا کرتے تھے۔یا رسول اللہ ! بعض دفعہ کئی کئی دن ایسے گزرتے ہیں کہ اللہ کی محبت اور اس کے ذکر میں دل اس طرح مچلتا نہیں جیسے بعض دوسرے دنوں میں مچلتا ہے۔اس طرح دل میں ولولے نہیں اٹھتے پیار کے تو ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ہلاک نہ ہو جا ئیں خدا جانے کیا ہو گیا ہے۔اس پر آنحضرت ﷺ مختلف طریق پر ان کو سمجھاتے تسلی دیتے۔یہ ہے تقویٰ اور اسی کے نتیجے میں نیکیاں حاصل ہوتی ہیں۔پس ایک شخص اگر خدا تعالیٰ کے متعلق ہمیشہ یہ باتیں سوچتا ر ہے کہ وہ مجھ سے ناراض نہ ہو کسی طرح ، آج میں نے کوئی ایسی بات تو نہیں کی جس سے ناراض ہو گیا ہو، کل تو نہیں مجھ سے ایسی بات ہوئی تھی جس سے اس کے تعلق میں کمی محسوس ہوئی ہو یا اس کے مقابل پر پھر یہ محسوس کرے کہ خدا نے کب، کس طرح مجھ سے پیار کا اظہار کیا ہے اور اب کمی کیوں آئی ہے اگر کمی ہے۔یہ وہ خلا میں آپ کے احساس کے ان کو پہلے بھریں۔اگر آپ غفلت کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں تو آپ کی ساری زندگی خالی ہے۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسِهُمْ أَنْفُسَهُمْ کا یہ مطلب ہے کہ خدا کو بھلائے بیٹھے ہو تم لوگ۔تمہاری زندگی میں وہ ہمیشہ ساتھ رہنے والا وجود ہی نہ رہا ہو تو پھر کیسے گمان کر سکتے ہو کہ تمہاری حفاظت ہوگی اور تمہاری نسلوں کی حفاظت ہوگی اور تم اپنے حال سے باخبر رہو گے۔ان معنوں میں خدا کو یا درکھیں کہ ہمیشہ دلوں پر غالب رہے، ہمیشہ ذہنوں پر غالب رہے، ذہن بار بار اس کی طرف پرواز کرنا شروع کر دیں، عادت پڑ جائے کہ دل کی ہر حرکت اس کی طرف مائل ہونے لگ جائے۔حنیفاً مسلما ہو جائیں۔اللہ کی طرف جھکاؤ کی طبیعت پیدا ہو جائے۔تو پھر اس کے نتیجے میں آپ کو خلا بھی دکھائی دیں گے اور ان کو بھرنے کا طریقہ بھی معلوم ہو جائے گا۔ورنہ ایک خطبہ میں کیا سینکڑوں خطبوں میں بھی میں ان تمام امکانی خلاؤں کا