خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 694 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 694

خطبات طاہر جلد ۶ 694 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء خوف کھا سکتے ہیں یا بدیاں آپ پر غالب آسکتی ہیں۔قرآن کریم خبر دیتا ہے کہ ہرگز ایسا نہیں ہو گا۔تم نیکیوں پر قائم رہو تو بدیاں تم سے بھاگیں گی تمہیں بدیوں سے بھاگنے کی ضرورت نہیں۔پس وہ لوگ جو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم اولاد کی خاطر ملک کو چھوڑ جائیں ان کو میں یہی جواب دیتا ہوں کہ اگر آپ اتنے کمزور ہیں کہ آپ بچ نہیں سکتے تو پھر بہتر یہی ہے کہ دنیا چھوڑیں اور دین کو فضیلت دیں، بھاگ جائیں یہاں سے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کو بھا گنا ویسے زیب دیتا نہیں۔آنحضرت ﷺ نے تو ساری دنیا کی تقدیر بدلنی ہے اور اپنے غلاموں کے ذریعے بدلنی ہے۔ان کے ذریعے بدلنی ہے جو آپ کے پیچھے چلنے والے، آپ سے محبت کرنے والے، آپ کی سنت کو زندہ کرنے والے ہیں۔اگر وہی میدان چھوڑ کے بھاگنے لگیں تو پھر دنیا کی تقدیر کون بدلے گا ؟ کہاں سے وہ لوگ آئیں گے؟ آسمان سے ایسی باتوں کے لئے فرشتے تو نازل نہیں ہوا کرتے۔زمین فرشتے اگایا کرتی ہے اور آنحضرت ﷺ کی سنت سے آج بھی ایسے فرشتے دنیا میں پیدا ہو سکتے ہیں ، ہور ہے ہیں اور یقین ہے کہ آئندہ بھی انشاء اللہ ہوتے رہیں گے۔تو اپنے اندر پہلے احساس پیدا کریں مضبوطی کا ، قوت کا۔واضح طور پر یہ بات سمجھ لیں کہ آپ مغلوب ہونے کے لئے پیدا نہیں کئے گئے غالب آنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔شرط یہ ہے کہ قرآن کریم سے غالب آنے کے راز سیکھ لیں۔شرط یہ ہے کہ اس فلسفے کو خوب اچھی طرح جان جائیں کہ خلا سے دنیا فتح نہیں ہوا کرتی ٹھوس باتوں سے دنیا فتح ہوا کرتی ہے۔پس اپنی نیکیوں کو یا اپنے نیک تصورات کو نیک اعمال کی صورت میں ڈھالیں اپنے خلاؤں کا جائزہ لیتے رہیں انہیں بھرنے کی کوشش کریں اور اس کے نتیجے میں آپ دیکھیں گے کہ انشاء اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کی اولاد بھی ماحول سے خطرہ محسوس کرنے کی بجائے ماحول پر غالب آنے لگے گی۔یہ تو ایک عمومی بات ہے۔سوال یہ ہے خلا بھرنے کیسے ہیں؟ قرآن کریم کا مطالعہ کریں تو یہ بات صاف نظر آجاتی ہے کہ ہر وقت انسان کو اپنا نگران رہنا پڑتا ہے، ہر وقت متلاشی رہنا پڑتا ہے اور حقیقت میں تقویٰ کا مضمون اس چیز سے بڑا گہرا تعلق رکھتا ہے۔تقویٰ کا ایک معنی ہے خوف کا۔اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔خوف کس بات کا؟ اللہ سے تو خوف نہیں کھایا جاتا۔ان معنوں میں اللہ وہ ڈرنے والی چیز تو نہیں وہ تو پیارا وجود ہے،اسے تو اپنایا جاتا ہے ہر وقت اس کی باتیں ہوتی ہیں۔جس کا خوف ہوانسان ہر وقت