خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 693
خطبات طاہر جلد ۶ 693 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء کرتا۔اچھے نتائج کے لئے خیالات کے ساتھ ٹھوس حقائق کا شامل ہونا بھی ضرور ہوا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے سارے امریکہ کی جماعتوں اور کینیڈا کی جماعتوں کو جن تک یہ آواز پہنچتی ہے خصوصیت کے ساتھ اور تمام عالم کی جماعت کو بالعموم اس قرآن کریم کے بیان فرمودہ نکتے کی طرف بہت گہری توجہ کرنی چاہئے۔آپ حسنات پر قائم ہیں کہ نہیں؟ یہ پہلا سوال ہے۔آپ کے دل واقعہ نیکی کی طرف مائل ہیں کہ نہیں ؟ کیا آپ دین کو دنیا پر فضیلت دیتے ہیں یا نہیں دیتے ؟ اگر ان سوالات کے جوابات مثبت ہیں تو میں قرآن کی زبان میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی اولادیں ضائع نہیں ہوں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔سوائے اس کے کہ بعض دوسری حماقتیں اور کمزوریاں آڑے آجائیں اور وہ بد قسمتی کے ساتھ اولاد پر بد اثرات ڈال دیں۔بعض دفعہ لوگ نیک بھی ہوتے ہیں خوبیوں سے مزین ہوتے ہیں لیکن خبردار نہیں ہوتے۔چنانچہ قرآن کریم نے خبر دار رہنے کی طرف بھی بار بار ہمیں توجہ دلائی ہے۔اس وجہ سے بعض نیکوں کی اولادیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔وہ خود نیک ہوتے ہیں مثلاً ماں بھی، باپ بھی دونوں نیکیوں سے بھرے ہوتے ہیں، نمازیں پڑھ رہے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیں لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ بھی کافی نہیں۔تمہیں باخبر رہنا پڑے گا، ہوشمند رہنا پڑے گا کہ دیکھو کہ تمہاری اولاد کدھر جا رہی ہے؟ اگر سچی نیکیاں ہوں اور ہوشمندی ساتھ شامل ہو جائے اگر اولاد کی طرف گہری فکر والی توجہ بھی پیدا ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ اولادیں ضائع نہیں ہوا کرتیں۔جو کمزوریاں ان معاشروں میں ہیں وہ کمزوریاں میری نظر کے سامنے ہیں میں ان سے خوب واقف ہوں لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایسے سینکڑوں احمدی خاندان ہیں جو انہی کمزور ماحولوں میں پل رہے ہیں اور ان کو کوئی خطرہ نہیں۔ان کے بچے بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ صحیح خطوط پر جوان ہورہے ہیں وہ خود بھی اپنے آپ کو نہ صرف محفوظ سمجھتے ہیں بلکہ اردگر دا اپنے ماحول پر نیک اثرات مرتب کرتے چلے جارہے ہیں۔پس وہ قرآن کریم کی اس آیت کی سچائی کا زندہ ثبوت ہیں اور باقیوں کے لئے وہ روشنی کا مینار ہیں۔امید میں ان سے وابستہ ہیں کیونکہ اگر ایسا بعض خاندانوں میں ممکن ہے تو باقی خاندانوں میں کیوں ممکن نہیں۔اس لئے سب سے پہلے تو اس احساس کمتری کو دور کریں کہ آپ گویا بدیوں سے